وفاقی صوبائی حکومت اور مذہبی جماعتیں مل کر طے کریں کہ امن کیسے ہوگا؛وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عاجز جمالی)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی صوبائی حکومت مذہبی جماعتیں مل کر طے کریں کہ امن کیسے ہوگا،وفاقی حکومت مجھے بلاتی ہے تو میں جاؤں گا،دہشت گردی سے میرا صوبہ متاثر ہو رہا ہے،وہاں پر دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا۔
کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتےہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم چاہ رہے تھے کہ جلدی پہنچیں،کراچی کے عوام نے جوش اور جذبے کے ساتھ خوش آمدید کہا،ایئر پورٹ سے ہم نے6 گھنٹے میں فاصلہ طے کیا،انہوں نے کہا کہ کراچی پریس کلب کا حلف نہیں ہوتا،حلف نہ لینا اچھی روایت ہے،پارلیمنٹ میں لوگ حلف لے کر حلف کی پاسداری نہیں کرتے ،بندے کو اپنی زبان پر قائم ہونا چاہئے ،میرے قائد نے حکم دیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو آپریشن کے حوالے سے موقف بار بار دے چکا ہوں،ہم نے جرگہ کیا تھا اس پر سب جماعتیں متفق ہیں ،ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے،میرے ساتھ وزیر اعلی سندھ نے رابطہ کیا،وزیر اعلی نے دعوت بھی دی ہے ،میں کے پی کی کمیونٹی سے ملوں گا ان کے مسائل وزیر اعلی کے سامنے رکھوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا،دہشت گردوں کو ہم پر مسلط کیا گیا،صرف ٹی ٹی پی نہیں جتنی بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں ان کی ڈنکے کی چوٹ پر مخالفت کرتے ہیں،ٹی ٹی پی کو لانے والوں کی بھی مخالفت کرتے ہیں،میں بار بار کہتا ہوں کہ ہم ملٹری آپریشن دیکھ چکے ہیں،اس سے قبل 14 ملٹری آپریشن کے پی میں ہوئے،کے پی میں 80 ہزار لوگ شہید ہو چکے ہیں،2028 کے بعد دہشت گردی ختم ہو چکی تھی،انہوں نے کہاکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام ذمے داروں کو بٹھائیں،کیا گارنٹی ہے کہ یہ آپریشن کامیاب ہوگا،وفاق یا ریاست پاکستان قربانیوں کی قدر نہیں کرتی،ان کی نیتوں پر شک ہے ،ان کی نیت اور بانی پی ٹی آئی کو ختم کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم دہشت گردی کے حوالے سے دعوت دیں تو 100فیصد جاؤں گا،وفاقی حکومت مجھے بلاتی ہے تو میں جاؤں گا،دہشت گردی سے میرا صوبہ متاثر ہو رہا ہے،وہاں پر دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا،وفاقی صوبائی حکومت مذہبی جماعتیں مل کر طے کریں کہ امن کیسے ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جعلی حکومت کے ساتھ ہمارا تجربہ اچھا نہیں رہا ،پنجاب کا رویہ ہمیں اچھا نہیں لگا ،سندھ میں ابھی تک مجھے شہید بے نظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نظر آ رہی ہے،آگے دیکھتے ہیں کہ زرداری صاحب کی حکومت آتی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں پہنچا ہوں ،اپنے تنظیمی دوستوں سے ملوں گا،سندھ حکومت نے زبانی طور پر ہمیں جلسے کی دعوت دی تھی،ہم نے تمام لوازمات پورے کیئے،ابھی تک جلسے کی اجازت کا نوٹیفکیشن نہیں ملا،اتوار کو کراچی میں ایک تاریخی جلسہ ہوگا،سندھ کی حکومت نے ہمیں عزت دی وہ اگر پشاور آتے ہیں تو ہم عزت دیں گے،پنجاب کے لوگ آئیں گے تو ہم ان کو عزت دیں گے،کے پی کے معدنی وسائل پر کے پی کے عوام کا حق ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختوخوا کا کہنا تھاکہ ہم نے حقیقی آزادی کی تحریک شروع کی،بانی پی ٹی آئی ناحق قید ہے،بشری بی بی بھی ناحق قید ہیں،عمران خان کی بہنوں کو بھائی سے ملنے نہیں دیا جا رہا،ایک سال سے زائد عرصہ ہے عمران خان کی دوستوں سے ملاقات نہیں ہوئی،بانی سابق وزیر اعظم ہیں انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سازش کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی گئی،ہماری جنگ ہماری پارٹی کی جنگ نہیں ہے،ہماری جنگ پورے عوام کے لیئے ہے،صحافی برادری کے ساتھ نا انصافی کی گئی ،آپ سب کو ہمارا ساتھ دینا ہے ،یہاں کچھ اچھا دیکھنے کو ملا ہے ،یہاں پر بھی ہماری جماعت کے ساتھ فسطائیت اور ظلم ہوا ہے۔
سہیل آفریدی کا کہناتھا کہ پورے پاکستان میں واحد کے کی حکومت ہے جو حقیقی حکومت ہے،آج ہمیں تیسری بار حکومت ملی ہے،یہ کس قانون میں لکھا ہے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلی دوسرے صوبے نہیں جا سکتا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ مزاحمت ہوگی تو مفاہمت ہوگی،ہم مزاحمت کر رہے ہیں،ہم کے پی میں سب کا صفایا کر چکے ہیں،چارٹر آف ڈیموکریسی ہوئی تھی،کونڈولیزا رائس کی کتاب میں بیک ڈور سازش کا ذکر تھا،انہوں نے کہ یہ صاحب اختیار نہیں ہیں،یہ اقتدار کے لیئے اس حد تک کر سکتے ہیں،اس تحریک میں جو بھی جماعت ہم سے ملے گی،ہم ان کا ساتھ دیں گے،علی امین گنڈا پور ہم سے رابطے میں ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ اپنے حلقے میں سٹریٹ موومنٹ کرے گا،بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیئے راستے نکلیں گے،ہمارے خیبرپختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں کا سلوک ہوتا ہے،2018 سے 2025 تک سب کو ای۔ ایف سی کا شیئر مل رہا ہےلیکن خیبرپختونخوا کو نہیں مل رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈائلاگ ہونے چاہئیں،ڈائلاگ لیول پلینگ فیلڈ کی بنیاد پر ہوتے ہیں،تحریک تحفظ پاکستان کے ساتھ جو پنجاب میں ہوا ،میرا ڈائلاگ کے لیئے کسی سے رابطہ نہیں،میرا کام اسٹریٹ موومنٹ کو لے کر جانا ہے،ہم 8 فروری کی تیاری کر رہے ہیں،مذاکرات کا مینڈیٹ راجہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھاکہ این ایف سی ایوارڈ میں ہمارا بڑا حصہ بنتا ہے،4758 ارب ہمارے وفاق کی جانب ہے ،سندھ حکومت نے یقین دلایا کہ این ایف سی پر ساتھ دیں گے،پنجاب میں 100 ارب روپے کی کرپشن ہوئی،وفاق میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ،ہمیں وفاق سے ہمارا حق دلایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : 9 مئی جیسے واقعات کرنے والوں سے بات نہیں ہو سکتی;وفاقی وزیر کھئیل داس