9 مئی جیسے واقعات کرنے والوں سے بات نہیں ہو سکتی;وفاقی وزیر کھئیل داس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وفاقی وزیر مملکت برائے بین المذاہب ہم آہنگی کھئیل داس کوہستانی نے کہا ہے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات کرنے والوں سے بات نہیں ہو سکتی، بات صرف ان سے ہوگی جو سیاسی گفتگو پر یقین رکھتے ہوں.
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کھئیل داس کوہستانی نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ بات کس سے کی جائے کیونکہ ایک انتشاری ٹولہ ہے جس کا واضح مینڈیٹ کسی کے پاس نہیں,انہوں نے کہا کہ 9 مئی جیسے واقعات کرنے والوں سے بات نہیں ہو سکتی، بات صرف ان سے ہوگی جو سیاسی گفتگو پر یقین رکھتے ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس کے پاس اختیار ہے اور جو اڈیالہ میں بیٹھا ہے، اس کی خواہشات سب کے سامنے ہیں، وہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کے لیے قرض روکنے کی بات کرتا ہے۔
کھئیل داس کوہستانی نے کہا کہ اگر وہ اپنے بیانیے سے دستبردار ہوں گے تو بات چیت ممکن ہو سکے گی۔
لوئر سندھ رائس ملز ایسوسی ایشن کی دعوت پر حیدرآباد آیاہوں تاکہ رائس ملرز اور چھوٹی صنعتوں کو درپیش مسائل براہِ راست سن سکیں،ملک میں چھوٹی صنعتوں کو ان پٹ کم پہنچتا ہے، خاص طور پر رائس ملرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رائس ملرز کے مسائل متعلقہ فورمز تک پہنچانے کے لیے پل کا کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک معیشت نہیں چلے گی، ملک کا پہیہ بھی نہیں چل سکتا۔
وفاقی وزیر مملکت نے ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے اس وقت کی حکومت کو ہٹایا گیا کیونکہ اس حکومت نے آئی ایم ایف کو بھی ناراض کر دیا تھا,انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے سیاست کے بجائے ریاست کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا، جس پر تمام اتحادی جماعتیں متحد ہو گئیں۔
کھئیل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ اس وقت مشکل فیصلے کیے گئےجن کا بوجھ پوری قوم نے اٹھایا، مگر شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا,انہوں نے کہا کہ اب ملک مشکل فیصلوں کے مرحلے سے نکل چکا ہے اور معیشت درست سمت میں گامزن ہے، جبکہ مہنگائی کم ہو کر تین فیصد تک آ گئی ہے۔
توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بجلی مہنگی ہوگی تو صنعتکار انڈسٹری نہیں چلا سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے مسلسل خسارے میں تھی جسے فروخت کر دیا گیا، جبکہ پاور سیکٹر میں بھی خسارہ موجود ہے اور اگلا مرحلہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ہے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے متعلق سوال پر کھئیل داس کوہستانی نے کہا کہ ان کے پاس عوامی مینڈیٹ ہے، مگر انہیں صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر توجہ دینی چاہیے,انہوں نے کہا کہ صوبہ بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے اور وزیر اعلیٰ کبھی لاہور میں کافی پیتے نظر آتے ہیں تو کبھی کہیں اور, ان کا کہنا تھا کہ صحافی کے سوال پر ناراض ہونا مناسب نہیں تھا بلکہ انہیں پنجاب کی وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ وہ کس طرح منصوبے دے رہی ہیں۔
وفاقی وزیر مملکت نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو گورننس پر توجہ دینی چاہیے اور دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے,وفاق صوبے کے وزیر اعلیٰ کے مینڈیٹ کا احترام کرتا ہے۔
سیاسی مکالمے کے حوالے سے کھئیل داس کوہستانی نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ شہباز شریف کی حکومت کے اقدامات سے پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے اور اب مزید بہتر فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ملک کی بانی جماعت ہے اور مشکل فیصلے پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے کیے گئے,وزیراعظم شہباز شریف نے 14 اگست کو بھی بات چیت کی پیشکش کی تھی، جبکہ ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر چارٹر آف ڈیموکریسی کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار آج رات سعودی عرب روانہ ہوں گے؛دفتر خارجہ