ہم بھی جنگ بندی میں ہیں یا نہیں؟ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کی شہباز شریف سے بات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) لبنان کے وزیراعظم نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی میں لبنان کی بھی شمولیت کی تصدیق کرے۔
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اپنے پاکستانی ہم منصب شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ لبنان کی ایران جنگ بندی میں لبنان کی بھی شمولیت کی تصدیق کریں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپلیکس پر 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد لبنان میں موجود حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے شروع کر دیئے تھے، تب سے اسرائیل جنوبی لبنان مین حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔
کل جمعرات کے روز لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں میں 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد الجزیرہ نیوز نے یہ خبر دی ہے کہ لبنان کے پرائم منسٹر نے پاکستان کے پرائم منسٹر کے ساتھ رابطہ کیا ہے اور جنگ بندی مذاکرات میں لبنان کو بھی شامل کروانے کی درخواست کی ہے۔
بیروت میں ایک بیان میں، پرائم منسٹر نواف سلام کے دفتر نے کہا کہ انہوں نے شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا، جنگ بندی کو محفوظ بنانے میں اسلام آباد کی کوششوں کی تعریف کی اور ان سے کہا کہ "اس بات کی تصدیق کریں کہ ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں لبنان بھی شامل ہے تاکہ کل اسرائیلی حملوں کی تکرار کو روکا جا سکے۔"
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کی وزیر اعظم کو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر مبارکباد
امریکہ کے صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے جنگ بندی کا نفاذ ہونے کے بعد ایرانی میڈیا میں سامنے آنے والے دعوؤں کی الگ الگ تردید کی اور کہا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، اسرائیل نے اپنے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کل حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اب تک کے سخت ترین حملے کئے۔ آج لبنان میں شیعہ آبادی اور حزب اللہ کے کنٹرول والے محلوں میں درجنوں جنازے اٹھائے گئے۔
ایران کے صدر اور سپیکر نے آج کے الگ الگ بیانات میں کہا کہ تہران لبنان کو جنگ بندی کے ایک لازمی حصے کے طور پر دیکھتا ہے اور لبنان کو جنگ بندی میں شامل نہ کرنے کی صورت میں "سخت ردعمل" کی دھمکی دی ہے۔