مسافردوران پروازایئرلان کی طرف سے فراہم کیاگیاکھاناکھا کرچل بسا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)قطر ایئر ویز کی پرواز کے دوران مسافرایئرلان کی جانب سے دیا گیا کھانا کھاتے کھاتے چل بسا۔
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق مسافر کا نام آسوکا جایاویرا تھااوراس کی عمر 85 سال تھی ،وہ پیشہ کے اعتبار سے کارڈیالوجسٹ تھا۔
جایاویرا سبزی خور تھَے اوراپنی ٹکٹ بک کرتے وقت ویجیٹیرین کھانے کی درخواست کی تھی، مگر پرواز کے دوران جو کھانا دیا گیا اس میں گوشت بھی شامل تھا۔
مسافر کی جانب سے شکایت کرنے پر ائیرلائن کے عملے نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ گوشت کو سائیڈ پر کر کہ کھانے کا باقی حصہ کھا سکتے ہیں۔
مسافر نے خوراک میں سے گوشت الگ کر کے کھانے کی کوشش کی لیکن فوراً ہی سانس پھول گیا، عملے نے فوری طبی امداد دی، آکسیجن فراہم کی اور دوائیں بھی دیں مگر مسافر جانبرنہ ہوسکا۔
ائیر لائن کے مطابق کیبن عملے نے MedAire نامی سروس سے رابطہ کیا، جس نے ہوائی جہاز کے عملے کو رہنمائی فراہم کی مگر طیارہ وقت پر ہنگامی لینڈنگ نہیں کر سکا،جب جہاز سکاٹ لینڈ کے ایڈنبرا ایئرپورٹ پہنچا تو مسافر بے ہوش ہو چکا تھا جسے فوری طورپرہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانوی وزیراعظم کا بھارت کیلئے ویزا قوانین میں نرمی سے انکار
جایاویرا کے بیٹے نے قطر ایئر ویز پرہرجانے کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ایئرلائن کی غفلت کی وجہ سے ان کے والد کی موت ہوئی۔
جایاویراکے بیٹے نے مقدمے میں مطالبہ کیا ہے کہ ایئرلائن کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔