پاکستان زندہ باد کہنے سے بھارتی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں، الہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ

Oct 08, 2025 | 09:06:AM
پاکستان زندہ باد کہنے سے بھارتی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں، الہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان زندہ باد کہنے سے بھارتی سلامتی کو کوئی خطرہ درپیش نہیں آتا ہے، الہ آباد ہائی کورٹ نے غداری کے مقدمے میں فیصلہ سنا دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق میرٹھ کے رہائشی بھارتی شہری ساجد چوہدری کو اس سال مئی میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگانے پر غداری کے مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق الہ آباد ہائی کورٹ نے ساجد چوہدری کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ 

26 ستمبر کے فیصلے میں عدالت نے میرٹھ کے رہائشی ساجد چوہدری کو ضمانت دی، جن پر مئی میں ’’کامران بھٹی پر فخر ہے، پاکستان زندہ باد‘‘ کی پوسٹ کرنے کا الزام تھا۔

انہیں بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی دفعہ 152(ہندوستان کی خودمختاری کو خطرہ) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 13 مئی سے جیل میں تھے۔

ساجد کے وکیل نے عدالت میں استدلال کیا کہ انہوں نے پوسٹ نہ تو خود لکھی اور نہ بنائی، بلکہ صرف فارورڈ کی تھی، اور ان کا کوئی ارادہ نفرت پھیلانے یا امن عامہ کو خراب کرنے کا نہیں تھا۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ ساجد کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور ضمانت پر رہائی سے کوئی خطرہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت،چینی کمپنی  نے دھوم مچا دی

دوسری جانب سرکاری وکیل نے ساجد کو علیحدگی پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔

الہ آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میرٹھ کے رہائشی ساجد چوہدری کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے غداری کا الزام ختم کر دیا۔