ٹرمپ کامنصوبہ فلسطین کازکا جنازہ ہے،اس میں فلسطین کیلئے رتی بھر ریلیف نہیں ہے؛سلیم بخاری

Oct 08, 2025 | 00:35:AM
ٹرمپ کامنصوبہ فلسطین کازکا جنازہ ہے،اس میں فلسطین کیلئے رتی بھر ریلیف نہیں ہے؛سلیم بخاری
کیپشن: سلیم بخاری شو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (فرخ احمد)سینئر صحافی  و تجزیہ کار سلیم بخاری نے  کہا ہے کہ ٹرمپ کا  جو منصوبہ ہے جو کہ اصل میں فلسطین کاز  کا جنازہ ہے، مسلم  امہ ایک کے بعد دوسرے  کے بعد تیسرا اس کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں جبکہ اس معاہدے میں فلسطین کاز کے لیے رتی بھر ریلیف نہیں ہے۔

  24 نیوز کے پروگرام ’’ سلیم بخاری شو‘‘ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی مسلمان دو سال سےاسرائیلی بربریت کا شکار ہیں  اور امریکہ اور اس کے اتحادی انسانیت کے قاتل اور نسل کشی کے  اندھا دھند  مجرم کا مسلم امہ کو خاموش بیٹھنے پر مجبور کرنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کسی کے دل میں درد اٹھا ہے نہ ہی کسی نے نیتن یاہو کو اس ظلم سے باز رہنے  کی دھمکی دی ہو اور دوسری طرف ہم نے کیا کہ ہے کہ امریکہ صد ر ٹرمپ کے امن پلان کی مدد کے لیے مرے جارہے ہیں،ہم ثالثی  کے لیے بھی تیار ہیں اورٹرمپ کا  جو منصوبہ ہے جو کہ اصل میں فلسطین کاز  کا جنازہ ہے اس کی تعریف کرنے سے ہمیں فرصت بھی نہیں ہے،جب سے اس نے اس منصوبے کا اعلان کیا ہے مسلم  امہ ایک کے بعد دوسرے  کے بعد تیسرا اس کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں جبکہ اس معاہدے میں فلسطین کاز کے لیے رتی بھر ریلیف نہیں ہے۔

سلیم بخاری نے گزشتہ 2 برس میں فلسطین اور غزہ میں ہونے والی تباہی اور بربادی  کا بھی احاطہ کیا جس میں انہوں نے بتایا غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی آج 2 سال بعد بھی جاری ہے،اسرائیلی جارحیت کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو اُس وقت ہوا ،غزہ جنگ میں ہونے والا جانی نقصان صرف ہلاکتوں تک محدود نہیں،اس جنگ میں اب تک ایک لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں بہت سے ایسے ہیں جن کے زخم زندگی بھر کے لیے معذوری بن گئے ہیں۔

انہو ں نے کہا کہ شہید ہونے والوں میں کم از کم 20 ہزار بچے بھی شامل ہیں  یعنی گزشتہ 24 مہینوں کے دوران اسرائیل نے اوسطاً ہر گھنٹے میں ایک بچے کو شہید کیا جبکہ  تازہ حملوں میں مزید 24 فلسطینیوں کو شہید کر دیا گیا جب کہ پورے خطے میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے۔

حماس نے مصر میں جاری امن مذاکرات میں اپنے مطالبات پیش کردیے جس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ حماس کا  ایک وفد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’ تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے’ جو ’ غزہ کے عوام کی امنگوں’ پر پورا اترے اور انہوں نے جو چھ مطالبات پیش کیے

 سندھ اور پنجاب میں ٹکراؤ ۔۔اندر کی بات کیا؟ 

اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ دونوں طرف سے لفظی گولہ باری کا سلسہ چل رہا ہے،دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان صدر پاکستان آصف علی زرداری اور محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ محسن نقوی دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے اس مسئلے کو  اگلے 48 گھنٹے میں  حل کر لیں گے۔انہوں نے صدر پاکستان کی سیاسی بصیرت بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ متنازعہ معاملات کو حل کروانے میں اپنا مثبت رول ادا کیا ہے ۔

 افغانستان دہشتگردی کا گڑھ ۔۔۔بھارت سپانسر۔۔۔دنیا کا بھی اعتراف ؛ 

ماسکو میں ہونے والے اجلاس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان، چین، روس اور ایران کا افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی پر پھر اظہار تشویش کا اظہار کیا اور  پاکستان نے چین، روس اور ایران کے ساتھ مل کر افغانستان میں ’استحکام اور امن‘ کے عزم کو دہرایا  ۔