پاکستان کا چھٹا صوبہ کونسا؟ بلیو اکانومی کیا ہے

تحریر :شہباز دل محمد

Jun 08, 2026 | 23:39:PM
پاکستان کا چھٹا صوبہ کونسا؟ بلیو اکانومی کیا ہے
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم بحر منایا جا رہا ہے جس کا مقصد آبی حیات کا تحفظ اور سمندری پانیوں کو آلودگی سے پاک کرنا ہے،  ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں عالمی یومِ بحر منایا جاتا ہے تاکہ سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی حیات کو درپیش خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

پاکستان کی وسیع ساحلی پٹی ، اقتصادی سمندری زون بڑھنے کے بعد عالمی ماہرین نے 2 لاکھ 90 ہزار کلو میٹر تک پھیلے سمندر کو پاکستان کا ’’غیر مرئی چھٹا صوبہ ‘‘ قرار دیا ہے ، دنیا بھر میں بلیو اکانومی کھربوں ڈالر کی صنعت بن چکی ہے، لیکن پاکستان ابھی تک اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم فائدہ اٹھا رہا ہے بعض حالیہ پالیسی جائزوں کے مطابق پاکستان کی بلیو اکانومی کا قومی جی ڈی پی میں حصہ تقریباً 1 فیصد کے قریب ہے، جو اس کی جغرافیائی اور سمندری صلاحیت کے مقابلے میں نہایت کم ہے، پاکستان کی تقریباً 95 فیصد بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں سے انجام پاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بندرگاہیں کسی بھی ملک کی اقتصادی زندگی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔

گوادر پاکستان کا اسٹریٹیجک اثاثہ:
گوادر بندرگاہ پاکستان کے سمندری مستقبل کا سب سے نمایاں منصوبہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کی اہمیت صرف تجارتی نہیں بلکہ تزویراتی بھی ہے، گوادر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے جہاں سے دنیا کے توانائی کے بڑے بحری راستے گزرتے ہیں۔ یہی محل وقوع اسے عالمی بحری سیاست میں اہم مقام عطا کرتا ہے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تناظر میں گوادر ایک ایسے گیٹ وے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مغربی چین، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بحیرہ عرب تک مختصر ترین رسائی فراہم کر سکتا ہے اگرچہ گوادر میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اسے مکمل علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے مزید گہرے چینل، جدید برتھس، صنعتی زونز اور بہتر زمینی رابطہ کاری درکار ہے۔

پاکستان کا اسٹریٹیجک محلِ وقوع قدرتی برتری:

پاکستان جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، بحیرہ عرب تک اس کی رسائی اسے عالمی تجارتی گزرگاہوں کے قریب لے آتی ہے، یہ جغرافیائی محلِ وقوع پاکستان کو صرف ایک ساحلی ریاست نہیں بلکہ ایک ممکنہ علاقائی ٹرانزٹ اور لاجسٹک مرکز بناتا ہے، دنیا میں معاشی طاقت کا مرکز تیزی سے سمندروں اور بحری راستوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ایسے میں وہ ممالک زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو اپنی بندرگاہوں، شپنگ انڈسٹری، لاجسٹکس اور ساحلی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔

عالمی یومِ بحر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی ترقی صرف خشکی سے نہیں بلکہ سمندر سے بھی وابستہ ہے، بحیرہ عرب پاکستان کے لیے محض پانی کا وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ تجارت، توانائی، روزگار، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ اگر پاکستان اپنی بلیو اکانومی، بندرگاہوں، سمندری تجارت اور ساحلی وسائل کو جدید منصوبہ بندی کے ساتھ ترقی دے تو یہ شعبہ آنے والے عشروں میں قومی معیشت کا ایک طاقتور ستون بن سکتا ہے۔ گوادر، کراچی اور پورٹ قاسم صرف بندرگاہیں نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے دروازے ہیں، جنہیں کھولنے کے لیے مستقل پالیسی، سرمایہ کاری اور سمندری وژن کی ضرورت ہے،  سمندر زمین کے ماحولیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں اور انسانی زندگی، معیشت اور موسمی توازن میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، پلاسٹک کے بڑھتے استعمال اور غیر قانونی ماہی گیری کے باعث دنیا کے سمندر سنگین خطرات سے دوچار ہیں۔

عالمی یومِ بحر کا پس منظر
عالمی یومِ بحر منانے کا تصور پہلی بار 1992 میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی "ارتھ سمٹ" میں پیش کیا گیا۔ بعد ازاں 2008 میں اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر 8 جون کو عالمی یومِ بحر کے طور پر تسلیم کیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ سمندر صرف پانی کے ذخائر نہیں بلکہ زندگی کے ضامن ہیں۔

سمندروں کی اہمیت
زمین کی سطح کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ آکسیجن سمندری پودوں اور خوردبینی جانداروں کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔ سمندر کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، عالمی تجارت کا تقریباً 90 فیصد حصہ سمندری راستوں سے انجام پاتا ہے، جبکہ کروڑوں افراد کی روزی روٹی کا انحصار ماہی گیری، سیاحت اور بحری تجارت سے وابستہ شعبوں پر ہے۔

سمندروں کو درپیش خطرات:
ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک سمندروں میں شامل ہو جاتا ہے، جو آبی حیات کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ سمندری جانور پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں، جس سے ان کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی:
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس سے مرجان کی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور آبی حیات کا قدرتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

غیر قانونی اور ضرورت سے زیادہ ماہی گیری:
بعض علاقوں میں بے تحاشا ماہی گیری کے باعث مچھلیوں کی کئی اقسام معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، جس سے سمندری حیاتیاتی تنوع متاثر ہو رہا ہے۔

کیمیائی اور صنعتی فضلہ:
کارخانوں اور شہروں سے خارج ہونے والا آلودہ پانی سمندروں میں شامل ہو کر آبی حیات اور انسانی صحت دونوں کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان اور بحری وسائل:
پاکستان کو تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی حاصل ہے جو صوبہ سندھ اور بلوچستان تک پھیلی ہوئی ہے۔ بحیرہ عرب پاکستان کی معیشت، تجارت اور ماہی گیری کے شعبے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

کراچی، گوادر اور قاسم بندرگاہیں ملکی تجارت میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں، اسی طرح بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں میں لاکھوں افراد کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ساحلی آلودگی، پلاسٹک کچرے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں کا کردار:
سمندروں کے تحفظ میں نوجوان نسل اہم کردار ادا کر سکتی ہے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلی صفائی مہمات میں شرکت، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری ماحولیات کے بارے میں آگاہی پھیلانا ایسے اقدامات ہیں جو مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

عالمی یومِ بحر 2026 کا پیغام:
اس دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سمندر انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر آج سمندروں کو آلودگی، بے جا استحصال اور ماحولیاتی خطرات سے محفوظ نہ بنایا گیا تو آنے والی نسلوں کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نتیجہ:
سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر نہیں بلکہ زمین پر زندگی کے ضامن ہیں۔ صاف اور محفوظ سمندر صحت مند ماحول، مستحکم معیشت اور بہتر مستقبل کی بنیاد ہیں۔ عالمی یومِ بحر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے اس عظیم تحفے کی حفاظت کے لیے حکومتوں، اداروں اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ اور پائیدار دنیا یقینی بنائی جا سکے۔