38ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ، نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان کی منظوری

Jan 08, 2026 | 14:05:PM
 38ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ، نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان کی منظوری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(جنید ریاض) پاکستان میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر بڑے فیصلے کر لیے گئے ہیں۔

 آؤٹ آف سکول بچوں کے داخلوں کے لیے وفاقی سطح پر چیلنج فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ قومی تعلیمی ایمرجنسی کے بعد بچوں کو سکولوں میں لانے کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی نافذ کی جائے گی۔

یہ فیصلے وزارتِ تعلیم کے تحت منعقدہ 38ویں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں کیے گئے، جہاں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم نے نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ایکشن پلان کی منظوری دی۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جعلسازی کے ذریعے داخل کیے گئے 18 لاکھ گھوسٹ بچوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے،صوبے میں داخلوں کی شرح بڑھانے کے لیے 10 ہزار سرکاری سکول آؤٹ سورس کیے گئے ہیں۔

سندھ کے وزیر تعلیم نے آگاہ کیا کہ سرکاری سکولوں میں 93 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں کر کے سکولوں کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ بلوچستان کی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی کے مطابق صوبے میں 3200 بند سکول بحال کر کے 1 لاکھ 40 ہزار بچوں کے داخلے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مرغی مہنگی،قیمت میں 100 روپے فی کلو اضافہ

خیبرپختونخوا میں 10 ہزار اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں جبکہ 1500 سکول آؤٹ سورس کر کے داخلوں کی شرح میں 6 فیصد اضافہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ ملک میں موجود 25 ملین آؤٹ آف سکول بچوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تمام منصوبوں کی حتمی توثیق ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس کرے گی، ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا اور سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے۔