پاکستان تقریباً 56 فیصد بجلی صاف ذرائع سے حاصل کر رہا ہے؛ وزیر توانائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد لغاری کا کہنا ہے کہ پاکستان تقریباً 56 فیصد بجلی صاف ذرائع سے حاصل کر رہا ہے،حکومت توانائی کے شعبے کو مارکیٹ بیسڈ ماڈل کی طرف لے کر جا رہی ہے اور مستقبل میں حکومت کی جانب سے بجلی خریدنے کی پالیسی میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی سے جی ای ورنووا ہائیڈرو پاور کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر فریڈرک ربیراس نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں صاف توانائی، ہائیڈرو پاور ٹیکنالوجی، نجی سرمایہ کاری اور توانائی شعبے میں مستقبل کے تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران وزیر توانائی اویس لغاری نےٹرانسمیشن مسائل کے حل کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کو بی ٹو بی ماڈل کی دعوت دیتے ہوئےکہا کہ ٹرانسمیشن سسٹم کے مسائل کے حل کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کو بی ٹو بی ماڈل کے تحت مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ونڈ پاور کے ٹیک آف مسائل کے باعث بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر کم لاگت توانائی کے متبادل کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے۔
جی ای ورنووا کے سی ای او فریڈرک ربیراس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور گرڈ کے استحکام کا انتہائی مؤثر حل ہے اور کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے،انہوں نے پاکستان کی توانائی پالیسی کی سمت کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور اے ایم آئی (اسمارٹ) میٹرز منصوبے میں جی ای ورنووا کی تکنیکی مہارت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جلد سرمایہ کاری کے ممکنہ منصوبوں کی تفصیلی فہرست کمپنی کو فراہم کرے گی۔
ملاقات میں دونوں نے پائیدار، کم لاگت اور صاف توانائی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔