ہیپاٹائٹس بی کے پھیلنے کی بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہے:ڈاکٹر عثمان نعیم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)مارننگ ود فضا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراض جگر ڈاکٹر عثمان نعیم نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حجاموں اور بیوٹی پارلرز میں بھی ایسے آلات استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں سٹرلائز نہیں کیا جاتا، جس سے بیماری کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر عثمان نعیم کے مطابق پاکستان میں عطائی ڈاکٹرز بھی استعمال شدہ اوزار اور سرنجیں دوبارہ استعمال کرتے ہیں، تاہم حکومت اس حوالے سے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان اس مرض میں پہلے نمبر پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیپاٹائٹس سی ننانوے فیصد قابلِ علاج بیماری ہے، مگر لوگ خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع کھونے کے خوف سے اپنا مرض چھپاتے ہیں،حکومت کی جانب سے ہیپاٹائٹس سی کے مفت ٹیسٹ اور دوائی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عثمان نعیم نے مزید کہا کہ اگر ہیپاٹائٹس سی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو جگر کی پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ جگر 80 فیصد تک ناکارہ ہو جاتا ہے، اس کی علامات میں پیٹ میں پانی پڑنا، خون کی الٹی آنا، غنودگی، اور گردوں، دل، پھیپھڑوں و دماغ پر اثرات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جگر سکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جگر کے نارمل خلیے غیر فعال ہو چکے ہیں اور اگر بیماری بی یا سی اسٹیج پر پہنچ جائے تو واحد علاج جگر کی پیوندکاری ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ مریضوں میں سے تقریباً 30 لاکھ مریضوں کا جگر سکڑ چکا ہے جبکہ لیور ٹرانسپلانٹ کا خرچ 60 سے 70 لاکھ روپے ہے۔.
انہوں نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریض کو صرف ایک گولی روز کھانی ہوتی ہے، اس لیے علاج میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ حاملہ خواتین میں اگر ہیپاٹائٹس سی پایا جائے تو اس دوران علاج نہیں کیا جاتا، تاہم اس کے اثرات بچے پر نہیں ہوتے اور ماں دودھ بھی پلا سکتی ہے۔
علاوہ ازیں چیئرمین پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن بیرسٹر امجد ملک نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے "ون ونڈو آپریشن" کا آغاز کر دیا گیا ہے، اس منصوبے کے تحت خدمت مراکز، پولیس سروسز، کمپلینٹ سیل پورٹل اور لینڈ رجسٹریشن کی سہولت ایک جگہ پر دستیاب ہو گی۔
انہوں نے بتایا کہ اب اوورسیز پاکستانی بیرون ملک بیٹھ کر اپنی زمینوں کا قبضہ حاصل کر سکیں گے، جبکہ رواں ماہ صوبے کے 36 اضلاع میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، بیرون ملک مقیم پاکستانی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالتوں سے رجوع کر سکیں گے اور ای پیٹیشن کے ذریعے مقدمات دائر کیے جا سکیں گے، جن پر عدالتیں چھ ماہ میں فیصلہ سنائیں گی۔
بیرسٹر امجد ملک نے مزید بتایا کہ پنجاب حکومت تمام لینڈ رجسٹریشن کو کمپیوٹرائزڈ بنانے پر کام کر رہی ہے، اور اب ای ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے زمینوں کی منتقلی ممکن ہو گی، اس نظام کے تحت پاور آف اٹارنی دینے کی ضرورت بھی ختم ہو جائے گی، جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو شفاف اور محفوظ سہولت میسر آئے گی۔