نئے اپوزیشن لیڈرز کا تقرر،بانی پی ٹی آئی کوپارٹی رہنماؤں نے کیامشورہ دیا تھا ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے اندر اس وقت حیرت کی لہر دوڑ گئی جب جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان نے اچانک قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نئے قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کی ہدایت جاری کر دی۔
حالانکہ پارٹی کو امید تھی کہ عدالتوں سے عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے مقدمات میں جلد ریلیف مل جائے گا۔
عمران خان کی جانب سے اڈیالہ جیل سے جاری اس اچانک ہدایت میں محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی اور علامہ عباس ناصر کو سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مقرر کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس نے پی ٹی آئی کے اندر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ ایسی کیا جلدی تھی جب پارٹی کی اکثریت سمجھتی تھی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنا ایک مؤثر راستہ ہے۔
الیکشن کمیشن نے مئی 9 کے مقدمات میں سزا کے بعد عمر ایوب اور شبلی فراز کو ان کی نشستوں سے ڈی سیٹ کر دیا تھا، پارٹی کی قانونی ٹیم نے یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے اور سینئر رہنماؤں کے مطابق انہیں “مثبت فیصلے” کی امید تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہر پاکستانی ماہانہ کتنےجی بی موبائل ڈیٹا استعمال کرتا ہے؟حیران کن انکشافات
پارٹی کے بیشتر اراکین اسمبلی کا ماننا تھا کہ اگر عدالت نے ای سی پی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تو ایوب اور فراز خود بخود اپنے عہدوں پر بحال ہو جائیں گے، اس لیے نئے تقرر کی ضرورت نہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی رہنماؤں نے کچھ ہفتے پہلے جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ نئے قائدِ حزبِ اختلاف کے تقرر کو قانونی عمل مکمل ہونے تک مؤخر کردیں، اس وقت عمران خان نے خاموشی اختیار کی جس سے یہ تاثر ملا کہ وہ اس تجویز سے متفق ہیں۔
تاہم کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد عمران خان نے اب دوبارہ اپنا اصل فیصلہ دہرایا اور پارٹی کو ہدایت دی کہ فوری طور پر نئے تقرر کیے جائیں — جس نے رہنماؤں کو حیران کر دیا۔
عمران خان کی اس اچانک جلدی کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں تاہم بعض پارٹی رہنماؤں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیادت کو خدشہ ہے کہ تاخیر سے پارٹی کو سیاسی نقصان ہوسکتا ہے جبکہ اچکزئی اور علامہ عباس ناصر ایک مؤثر اپوزیشن اتحاد کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک اور تجزیہ یہ ہے کہ عمران خان یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی پارلیمانی حکمتِ عملی کو عدالتی غیر یقینی صورتحال کی نذر نہیں کرے گی۔