آئینی عدالتیں بننی چاہیں،آرٹیکل 243 کی حمایت کریں گے:بلاول بھٹو زرداری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا ذکر ہے،دو دن ہماری بحث ہوئی،آئینی عدالت بننی چاہئے،243 کے حوالے سے حمایت کریں گے۔
پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس جاری ہوا جس کی صدارت بلاول بھٹو زرداری نےکی،صدر مملکت آصف علی زرداری اجلاس میں شریک ہیں،پی پی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں شریک ہیں،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر بھی اجلاس میں شریک ہیں،چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی،قائم علی شاہ نثار کھوڑو ،رضا ربانی، فاروق ایچ نائیک،قمر زماں کائرہ، شیری رحمان، نوید قمر اجلاس کا حصہ ہے،شرجیل انعام میمن سعید غنی،سردار یعقوب ،صابر بلوچ ،عمر گورگیج، راجا پرویز اشرف ندیم افضل چن بھی اجلاس میں شریک ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج پارٹی کے دوسرے دن کا اجلاس تھا،ایک بات واضح ہے ،243 کے حوالے سے حمایت کریں گے، 243 کی منظوری سے صدر کے اختیارات اور سول سپر میسی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،243 کا نقصان سول سپر میسی اور جمہوریت کو ہوتا میں خود مخالفت کرتا۔
آئینی عدالتوں کےسوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پی پی کا ہی یہ نکتہ ہے،چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت کا ذکر ہے،دو دن ہماری بحث ہوئی،آئینی عدالت بننی چاہئے،چارٹر آف ڈیموکریسی کے دوسرے نکات پر بھی اتفاق کیا جائے۔
انہوں نےججز کے تبادلوں کے حوالے سےکہاکہ آئین میں لکھا ہے، صدر پاکستان جج کی اجازت کے ساتھ تبادلہ کر سکتا ہے،حکومت چاہتی ہے کہ عدالت اور مشاورت کا سلسلہ ختم ہو،حکومت چاہتی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تبادلہ کرے،ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت سے مشاورت ہو۔
ہائی کورٹ ججز کا تبادلہ کیسے ہو؟
اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ پی پی کا مشورہ ہے کورٹ کا چیف جسٹس کو ووٹنگ کا حق نہ ہو ،ججز کا تبادلہ اسی فورم سے کیا جائے۔
پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دہری شہریت،الیکشن کمیشن کا سوال ہے،میجسٹریٹی کا سوال ہے، ان پر ہم اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تین چار نکات پر اتفاق ہے،27 ترمیم اس پر منظور ہو سکتی ہے،این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم کے نکات پر مسلم لیگ کسی اور دو تہائی اکثریت حاصل کر سکتی ہے تو کر لے،پیپلز پارٹی این ایف سی اور اٹھارویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈزاسٹر ہوگا تو صدر اور وزیر اعظم بھی مدد کریں گے،این ایف سی تمام صوبوں کو شیئر دیتا ہے،صوبوں کے شیئر کا ہم تحفظ کریں گے،این ایف سی پر ہماری رائے واضح ہے،وفاق کے معاشی مشکلات ہیں اس سے نکلے۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ پر کچھ لوگ تنقید کرتے ہیں،این ایف سی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم سے پہلے دیا تھا،اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو جو ذمے داری ملی ہے، اس پر عمل کیا جائے۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ بلدیاتی اختیارات میں سندھ میں موجود ہے،سب سے تگڑا بلدیاتی نظام سندھ میں موجود ہے،این ایف سی ایوارڈ کے بارے سب سے زیادہ آواز سندھ سے اٹھ رہی،سندھ کے عوام این ایف سی کے حق میں،وفاق میں بیورو کریسی ایف بی آر ہے جو ناکام ہوئے ہیں ،این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کو حق دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: