گھروں میں قانون نافذ نہ کرو،محبت نافذ کرو:’’مارننگ ود فضا‘‘ میں پرمغز گفتگو 

 جو لوگ گھروں میں قانون کی طرح سختی کرتے ہیں وہاں اطاعت تو ہوتی ہے مگر ادب نہیں،صاحبزادہ کاشف علی واصف 

Nov 07, 2025 | 16:50:PM
گھروں میں قانون نافذ نہ کرو،محبت نافذ کرو:’’مارننگ ود فضا‘‘ میں پرمغز گفتگو 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)24نیوزکےپروگرام’’ مارننگ ود فضا میں’’گھروں میں قانون نافذ نہ کرو، محبت نافذ کرو‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مہمان صاحبزادہ کاشف علی واصف نے کہا کہ جو لوگ گھروں میں قانون کی طرح سختی کرتے ہیں وہاں اطاعت تو ہوتی ہے مگر ادب نہیں، جو شوہر صرف اپنے حکم کے ذریعے بیوی سے کام لیتے ہیں وہ محبت نہیں دیتے،گھر سکون کا باعث ہوتا ہے، اگر گھر میں سکون نہیں تو یہ توبہ کا مقام ہے،گھر رویوں سے بنتا ہے اینٹوں سے نہیں۔
صاحبزادہ کاشف علی واصف نے بتایا کہ ان کے گھر میں دادا، دادی با آوازِ بلند قرآن پاک پڑھتے تھے، جن گھروں میں قرآن پاک پڑھا جاتا ہے، ان بزرگوں کے جانے کے بعد دیواریں بھی ان آوازوں کو ڈھونڈتی ہیں، گھر کی دیواریں بتاتی ہیں کہ وہاں رہنے والے کیسے لوگ ہیں کیونکہ گھر رویوں کی تاثیر کا مظہر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چار دیواری کی عزت ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے گھر کی عزت کرتے ہیں؟ آقا ﷺ کا فرمان ہے ’’ تین بار دستک دو، اگر جواب نہ آئے تو خاموشی سے لوٹ جاؤ اور برا مت مناؤ‘‘۔ اگر گھر کے باہر کسی سے نہ ملنا چاہوں تو نہ ملوں، اس میں کوئی برائی نہیں۔
صاحبزادہ کاشف علی واصف کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں برداشت کم ہوتی جا رہی ہے، محبت کا اصول یہ ہے کہ کوئی بات بری نہیں لگتی، اگر بری لگے تو ناگوار نہیں گزرتی، اور اگر ناگوار گزرے تو دل پر اثر نہیں کرتی، بچے غلطیاں کریں تو بھی ان سے محبت ختم نہیں ہونی چاہیے، غصہ تربیت کے لیے ہوتا ہے، والدین کو یہ اداکاری (ایکٹنگ) آنی چاہیے کہ وہ غصے میں بچوں کو سمجھائیں مگر خود پر غصہ طاری نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں اتنا خوف ہونا چاہیے کہ غلطی کرتے ہوئے سوچیں، اور اتنی محبت ہونی چاہیے کہ غلطی کرتے ہوئے پوچھ سکیں، بچوں کی ٹین ایجز میں بیٹی کی ماں سے اور بیٹے کی باپ سے دوستی ہونی چاہیے، جوانی میں بیٹا باپ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے جبکہ ماں کی خصوصیات بیٹی میں جھلکتی ہیں، ماں بیٹی کو بڑی بہن کی طرح سمجھاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گھر کا ماحول مضبوط تعلقات سے بنتا ہے، لوگ بات منوا لیتے ہیں مگر تعلق چھوڑ دیتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ بات چھوڑ دو، تعلق بچا لو۔ گھروں کو عدالت نہ بنائیں، ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کر دیں۔ جب اللہ معاف کر دیتا ہے تو ہمیں بھی دوسروں کو معاف کر دینا چاہیے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ واصف علی واصفؒ نے فرمایا تھا’’اگر ہم جیسے اندر سے ہیں ویسے ہی باہر دکھائی دیں تو کتنے لوگ آمین کہیں گے۔ ہم نیک ہو نہیں رہے، نیک دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، نیک مشہور ہو رہے ہیں۔‘‘