ٹریفک پولیس کے ظالمانہ جرمانے،موٹرسائیکل سوار رل گئے

ٹریفک قوانین انسانی جانوں کے تحفط کیلئے بنائے جاتے ہیں مگر قوانین کے نام پر شہریوں کی جیبیں خالی کرنے والا ایک نیا قانون سامنے آیا ہے،بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں اور چنگچی والوں کو پکڑنےکیلئے جگہ جگہ ناکے مگر کاروں اور پڑاڈو والوں کوئی چیک نہیں کرتا،غریب کا کوئی پرسان حال نہیں

Aug 07, 2025 | 17:55:PM
ٹریفک پولیس کے ظالمانہ جرمانے،موٹرسائیکل سوار رل گئے
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایس ایم عتیق شاہ بخاری+ناصر امین)ان دنوں لاہور سمیت ملک بھر میں ٹریفک قوانین پر پوری طرح عملدرآمد کیا جارہا ہےاور خلاف ورزی کرنے والوں کی اچھی طرح کھال کھینچی جارہی ہے۔ ٹریفک قوانین انسانی جانوں کے تحفط کے لیے بنائے جاتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کرنا ہم سب کا فرض ہے، لیکن پاکستان میں ان قوانین کے نام پر شہریوں کی جیبیں خالی کرنے والا ایک نیا قانون سامنے آگیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ماہ قبل لاہور میں موٹرسائیکل سواروں کیلئے کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی ’’بائیکر لین‘‘عوام کیلئے سخت مشکلات اور حادثات کا سبب بنی ہوئی ہے۔

ہیلمٹ کی بات کی جائے تو دورانِ ڈرائیونگ یہ بے حد ضروری ہے کہ بائیک چلانے والا اپنی حفاظت کے لیے اس کا استعمال لازمی کرے۔ لاہور کی بات کی جائے تو یہاں کئی سالوں سے ہیلمٹ پہننے کا رواج ہی نہیں تھا، قانون تو تھا مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا تھا۔ یکدم ایک ہوا کا جھونکا آیا کہ ایسی سختی کردی گئی کہ لوگوں کے پیروں تلےمنوں مٹی  نکل گئی ہو۔ ٹریفک والے حکومت کا خزانہ اور ذاتی جیب گرم کرنے کیلئے اربوں روپے جرمانہ اکٹھا کر رہے ہیں ۔انکے پاس عوام کو ٹریفک قوانین سے آگاہی اور  خود  ٹریفک وارڈن کو قوانین کا کوئی علم نہیں۔ سختی ہونی تو چاہیے مگر عوام کی حفاظت کے لیے نہ کہ اُن کو مزید زخمی کرنے کے لیے۔

پچھلے ماہ ایک آدمی نے کلب چوک ماڈل ٹاؤن لاہور  اور کراچی میں ان ظالمانہ چالانوں کے خلاف موٹرسائیکل کو آگ اور دوسرے نے اپنی ہاتھ کی نس کاٹ لی۔

                           تجویز...

اگر ہماری گورنمنٹ کا مقصد لوگوں کو ہیلمٹ کے استعمال کی پابندی کروانا ہے تو اس کے لیے ایک سادہ سی تجویز ہے کہ جن جن شاہراہوں پر ٹریفک وارڈنز کھڑے کیے جاتے ہیں، انہیں مقامات پر ایک ہیلمٹ بیچنے والے کو بھی کھڑا کیا جائے، جس شہری کو ہیلمٹ نہ پہننے پر روکا جائے اسے دو آپشنز دیئے جائیں کہ یا تو چالان کروالے جو کہ قانون کے مطابق 2000 روپے ہے، یا پھر اس ہیلمٹ والے سے 1000 یا 15000 کا ہیلمٹ خرید لے۔ اب یہاں کے قانون کی بات کی جائے تو یہاں آدھی سڑک کو بلاک کرکے شہریوں کو روکا جاتا ہے اور دھڑا دھڑ چالان کیے جاتے ہیں۔ ایک ایک شاہراہ پر 5 سے 6 وارڈنز کھڑے ہوئے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں (خاص طور پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں) سے چالان کے نام پر خوب پیسے بٹور رہے ہیں اور جگہ جگہ عوام کا ان سے جھگڑا سامنے آ رہا ہے۔

دنیا کے مہذب ملکوں میں ٹریفک کا نظام عوام کی سہولت کیلئے بنایا جاتا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی میں کوئی رکاوٹ نہ رہےلیکن اس کے برعکس لاہور میں ٹریفک وارڈن  نے ایک نئی چیز ایجاد کی ہے ، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں اور چنگچی والوں کو پکڑنے( کاروں اور پڑاڈو والوں کوئی چیک نہیں کرتا) کیلئے جگہ جگہ ناکے لگا لیتے ہیں،جس سے ٹریفک میں تعطل پیدا ہوتا، لیکن وہ اپنے ٹارگٹ کیلئے عوام کی پریشانی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اس کی دو مثالیں دی جاسکتی ہیں  مزنگ چونگی شربت والے کے پاس ناکہ اور قذافی سٹیڈیم فیروز پور روڈ کے باہر   ناکہ لگا کر ٹریفک میں تعطل پیدا کیا جاتا ہے۔

اگر ہیلمٹ والے کو کھڑا کرنے والی تجویز سمجھ نہیں آتی تو ایک اور تجویز ہے کہ آپ ٹریفک پولیس کے نام کے اچھے ہیلمٹ بنوائیں اور ہر شاہراہ پر موجود وارڈنز کو وہ ہیلمٹ فراہم کردیں ، جو ہیلمٹ والوں کے چالان کے بجائے انہیں 1000 یا 1500 کا ہیلمٹ فراہم کردے۔ پیسے تو چالان کے بھی حکومت کے کھاتے میں جاتے ہیں، مگر اس تجویز پر عمل کرنے سے شاید وہ شہری جس نے وارڈن سے چالان کی بجائے ہیلمٹ خریدا ہو ، دوبارہ کھبی ہیلمٹ نہ پہننے کی غلطی نہ کرے۔ خیال اگر عوام کی بھلائی اور ان کی جانوں کی حفاظت کا ہو تجاویز ایک سے بڑھ کر ایک سامنے آجاتی ہے۔خدارا  پاکستانی عوام بھی آپ کے ملک کا حصہ ہیں، اُن کی آسانی اور حفاظت کے لیے بنائے گئے قوانین کا تھوڑا سا صحیح استعمال انہیں ہیلمٹ پہننے پر بھی راغب کردے گا۔ 

اب آئیں دوسری جانب لاہور میں موٹرسائیکل والوں کی علیحدہ بائیکر لائن بنائی گئی ہے ، کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی جانیوالی یہ لائن جگہ جگہ رنگ و روغن بہہ جانے کے باعث اپنی خوبصورتی کھو چکی ہے لیکن سب خطرناک بات یہ ہے اسکو بغیر کسی شاہرات کے سینیئر انجینئر  سے رائے لئے بغیر بنا دیا گیا ، اس پر روز  حادثات ہوتے ہیں ، خاص طور پر رات کے وقت کبھی کوئی ٹرک ، کار والا ڈیوائڈر کے اوپر چڑھا ہوتا ہے، اور کبھی کوئی موٹر سائیکل والا قلابازیاں کھا رہا ہوتا ہے۔ ڈیوائڈر لائن جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جو کہ جان لیوا ہو سکتی ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ قوانین بنائے جو عوام کو بھی قابل قبول ہوں۔ اس وقت یہ حال ہے کہ موٹرسائیکل سوار  کم آمدنی کے باعث اگلی اور  بیک لائٹس نہیں لگوا سکتے۔ اس کے علاوہ بارش کے دنوں میں موٹر سائیکلوں کے مڈگاروں کے ساتھ  50 روپے کی ’’دمچی‘‘نہیں لگوا سکتے وہ کیسے 2000 ہزار روپےکا جرمانہ ادا کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: طلبا کی موجیں، سکولوں میں مزید چھٹیاں؟وزیر تعلیم کا بیان بھی آ گیا