غزہ امن منصوبہ: پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا حماس کے مثبت ردعمل کا خیرمقدم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس ) سعودی عرب، پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حماس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر مثبت رد عمل کا خیر مقدم کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے ٹرمپ کے اسرائیل کو فوری طور پر بمباری بند کرنے کا کہنے اورتبادلے کے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے کے مطالبے کا خیر مقدم کیاہے۔
وزرائے خارجہ نے خطے میں قیام امن کے لیے ان کے عزم کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ یہ پیش رفت جنگ بندی کے حصول میں مثبت ثابت ہوگی،غزہ میں لوگوں کو درپیش سنگین انسانی حالات سے نمٹنے کے لیے اہم موقع کی نمائندگی کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے حماس کی طرف سے غزہ کا انتظام ٹیکنوکریٹس کی عبوری انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہونے کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیاہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزرائے خارجہ نے تجویز پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر اتفاق کرنے اورتمام پہلوؤں کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کے فوری آغاز کی ضرورت پر زور دیاہے۔
وزرائے خارجہ نے تجویز پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کرنے کے لیے فوری مذاکرات کے آغاز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے فوری خاتمے،انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کے عدم انخلا کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت نے دوبارہ کوشش کی تو سکور 0-6سے کہیں بہتر ہوگا،خواجہ آصف
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جو فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو خطرے میں ڈالے، تمام ممالک نے فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی، غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد پر زور دیا، تمام فریقین کے تحفظ کے لیے سکیورٹی مکینزم اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیرنو کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ امن کے قیام کی حمایت کی۔