ڈیفنس سی مبینہ جنسی استحصال کیس ؛ فرانزک شواہد پر تفتیش کا دائرہ وسیع
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص احمد)لاہور ڈیفنس سی میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء اور جنسی استحصال کے مقدمے میں فرانزک شواہدپرتفتیش کادائرہ وسیع کردیاگیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک واپس جانے والی دونوں غیر ملکی خواتین کو ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی تفتیش میں شامل کیا جا سکتا ہے، اگر تحقیقات کے کسی مرحلے پر ان کی پاکستان میں موجودگی ناگزیر ہوئی تو متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کرکے انہیں دوبارہ پاکستان بلانے کا بھی امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے اہم شواہد کے حصول کے لیے دونوں خواتین سے ان کے موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے طلب کیے، تاہم دونوں نے اپنے موبائل فون فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
پولیس نے مقدمے میں گرفتار ملزمان کے موبائل فون قبضے میں لے کر فرانزک تجزیے کے لیے متعلقہ ادارے کو بھجوا دیے ہیں تاکہ ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش ہر زاویے سے کی جا رہی ہے اور شواہد کی روشنی میں میرٹ پر تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے،فرانزک رپورٹ، بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیرہ بگٹی؛ دو گروہوں کے درمیان فائرنگ،چار افراد جاں بحق،ایک زخمی
دوسری جانب گزشتہ روز پولیس نے غیر ملکی خواتین کو اغوا ءکے بعد جنسی زیادتی کرنے والے چار مزید ملزمان کو گرفتار کرلیا تھاجن میں اپنے آپ کو باس کہلوانے والا ملزم بھی شامل تھا،گرفتاری کے دوران باس کہلوانے والے ملزم کی ٹانگیں چھت سے چھلانگ لگاتے ٹوٹ گئیں جبکہ گرفتار ملزمان کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔