حنا جاوید قتل کیس؛ اہلخانہ کا شواہد میں ٹیمپرنگ اور تفتیش پر اظہارعدم اعتماد
مقتولہ کے بھائی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلئے دوسرا خط ارسال کردیا،جے آئی ٹی بنانے کامطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارشاد قریشی)حنا جاوید قتل کیس میں اہلخانہ نے شواہد میں ٹیمپرنگ اور تفتیش پر عدم اعتمادکااظہارکردیا۔
مقتولہ کے بھائی نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلئے دوسرا خط ارسال کردیاجس میں کہا گیاہے کہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کا بھائی کامل اصغر کیس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے،مرکزی ملزم کا بھائی غیر جانبدارانہ تفتیش نہ ہونے اور شواہد کو ٹیمپر کرنے کوشش کر رہا ہے۔
خط کے مطابق مرکزی ملزم کے بھائی کامل اصغر کی پولیس اور فارنزک ٹیموں سے مسلسل رابطے کے شواہد سامنے آئے ہیں،کامل اصغر کے وائس نوٹس تفتیش میں مداخلت کے شواہد کے طور پر سامنے آئے ہیں،قومی کمیشن اور وفاقی حکومت کامل اصغر کے مبینہ کردار پر رپورٹ طلب کرے،کیس کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم مجبورا بار بار قومی کمیشن سے رجوع کررہے ہیں کیونکہ اب تک کی تحقیقات غیر جانبدارانہ نہیں کی گئیں ، مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کی شواہد کے ساتھ ٹیمپرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔
خط کے مطابق 4 ستمبر کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹر میں راولپنڈی پولیس حکام سے ہماری تفصیلی میٹنگ ہوئی،لاہور سے ڈی آئی جی شعیب خرم، سی پی او حسن مشتاق سکھیرا اور ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب بھی میٹنگ میں شریک تھے،حنا جاوید کے اہلخانہ نے اپنے تحفظات پولیس حکام کے سامنے رکھے ہیں جس میںپولیس حکام کو بتایاکہ قتل کی ذمہ داری اصل ملزم کے بجائے گھریلو ملازم پر ڈالی جارہی ہے، ہمیں یقین ہے ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کررہا ہے،ہمارے پاس ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کے وائس نوٹس موجود ہیں جو اس نے مقتولہ کے اہل خانہ کو بھیجے ہیں،فیصل اصغر کا بھائی کامل اصغر پولیس کے ساتھ فعال طور پر ملی بھگت کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرہ خان کے ہاں جلد ننھے مہمان کی آمد متوقع
خط میں مزیدلکھاہے کہ ہیومن رائٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت قومی کمیشن دیوانی عدالت کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق گواہان، شواہد اور مقدمے کا سارا ریکارڈ طلب کرسکتا ہے،پولیس کی جانبداری اور ملزمان سے ملی بھگت قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے،قومی کمیشن حنا جاوید قتل کیس کی جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کرے، حنا جاوید کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اہلخانہ منصفانہ اور غیر جانبدار تفتیش اور انصاف کے منتظر ہیں۔