ملبے کے نیچے پھنسے انسان کی حرکت کا پتا لگانے والی ناسا کی خاص ٹیکنالوجی

Jul 05, 2025 | 18:40:PM
ملبے کے نیچے پھنسے انسان کی حرکت کا پتا لگانے والی ناسا کی خاص ٹیکنالوجی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24 نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  ناسا کی تیار کردہ ایک خاص ٹیکنالوجی جو ملبے کے نیچے پھنسے انسان کے جسم کی معمولی سی حرکت کا بھی پتہ لگا لیتی ہے،اِس ٹیکنالوجی پر مبنی آلے کو 'فائنڈر' کہتے ہیں جو ایمرجنسی میں زندہ افراد کو ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہ آلہ مائیکروویو ریڈار سینسرز کے ذریعے ملبے کے نیچے یا برفانی تودے میں دبے لوگوں کی سانس اور دل کی دھڑکن کو دور سے محسوس کرکے ان کی موجودگی کا پتا لگاتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی اور امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے مل کر تیار کی تھی جو خاص طور پر عمارتوں کے ملبے میں پھنسے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی۔

 اس ٹیکنالوجی کو ہیٹی کے 2010 کے تباہ کن زلزلے کے بعد تیار کیا گیا اور پھر اُسے کمرشل بنیادوں پر ریلیز کیا گیا، اس کے علاوہ 2023 میں ترکیہ اور شام کے زلزلے میں ناسا نے اپنے مصنوعی سیاروں کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ علاقوں کی تصاویر حاصل کریں تاکہ نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے اور امدادی ٹیموں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ 

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں نصب ایک اور آلہ EMIT بھی استعمال میں لایا گیا جو زمین کی فضا میں گرد و غبار کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ کسی ممکنہ گیس لیک کا پاہ لگا کر خطرات کی فوری نشاندہی کی جا سکے،ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے ماہرین کسی زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کا بھی اندازہ لگاسکتے ہیں تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔

 یہ سائنسی تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایسی ٹیکنالوجیز کس طرح انسانی زندگیوں کو بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے نئے فیچر ’سرچ فار ڈرافٹ میسجز‘ پر کام شروع