فلم کی عہد ساز شخصیت چوہدری کامران اعجاز بھی چلے گئے
تحریر زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
پاکستانی فلم انڈسٹری ایک ایسے شخص سے محروم ہو گئی ہے جس نے پوری زندگی سینما کے لیے وقف کر دی،نامور پروڈیوسر، ڈسٹری بیوٹر اور صنعتِ فلم کا معتبر نام چوہدری کامران اعجاز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے،انہیں کچھ عرصہ قبل برین ہیمرج ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیر علاج تھے، مگر تقدیر نے انہیں مہلت نہ دی۔
ان کی وفات نے فلمی دنیا میں ایک گہرا خلا چھوڑ دیا ہے،ایک ایسا خلا جسے شاید طویل عرصے تک پُر نہ کیا جا سکے،چوہدری کامران اعجاز صرف فلم ساز نہیں تھے، بلکہ وہ فلم انڈسٹری کے روحِ رواں اور معماروں میں سے ایک تھے۔ان کی پروڈیوس کردہ فلمیں — سلطنت، بھائی لوگ،بلائنڈ لو۔آسو بلا ۔چراغ بالی ۔عقابوں کا نشیمن ۔اچھا شوکر والا سمیت کئی کامیاب پروجیکٹس — نہ صرف بزنس کے لحاظ سے کامیاب رہیں بلکہ پاکستانی سینما کی بحالی میں سنگِ میل ثابت ہوئیں۔
انہوں نے صرف فلمیں بنائیں نہیں، بلکہ درجنوں فلموں کو ڈسٹری بیوٹ کیا تاکہ پروڈیوسرز اور فلم سازوں کی محنت پردۂ سیمیں تک پہنچ سکے،انہوں نے ٹی وی ڈرامے بھی بنائے جن میں کنیز ۔مہندی والے ہاتھ ۔دیوار اور دیگر شامل ہیں ،چوہدری صاحب نے بعض فلموں میں خاموش سرمایہ کاری (غائبانہ انویسٹمنٹ) بھی کی، تاکہ فلمیں بنتی رہیں، اسٹیڈیوز روشن رہیں اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے دروازے بند نہ ہوں۔
ان کا رائل پارک لاہور کا دفتر فلم انڈسٹری کا ایک مرکز مانا جاتا تھا،یہ صرف ایک دفتر نہیں بلکہ فلمی سرگرمیوں، ملاقاتوں، منصوبہ بندیوں اور فیصلوں کی آماجگاہ تھی۔اسی دفتر میں فلمی تنظیموں کے اجلاس ہوتے، فیصلے طے پاتے اور انڈسٹری کے مسائل کے حل نکالے جاتے،چوہدری کامران اعجاز نے ہمیشہ اختلاف کے بجائے اتحاد کو ترجیح دی۔
جب فلمی دنیا کے لوگ آپس میں اختلافات کا شکار ہو جاتے، تو وہ درمیانی راستہ نکال کر جھگڑے ختم کروا دیتے ، انہی کی وجہ سے کئی بار ٹوٹی ہوئی فلمی انجمنیں دوبارہ اکٹھی ہوئیں، چوہدری کامران اعجاز کا ایک نمایاں پہلو ان کی ملنساری اور فراخدلی تھی،وہ ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔
ان کے دفتر میں آنے والا کوئی شخص بھوکا واپس نہیں جاتا تھا،چائے، سموسے اور مسکراہٹ — یہی ان کی مہمان نوازی کے نشان تھے۔
اگر کوئی مہمان کچھ خاص کھانے کی خواہش کرتا تو چوہدری صاحب فوراً بندوبست کر دیتے،یہی ان کا اندازِ محبت تھا جس نے انہیں لاہور کے فلمی حلقوں میں ایک باپ جیسا مقام دیا۔
چوہدری کامران اعجاز نہ صرف لاہور بلکہ اسلام آباد میں ہونے والے فلمی بحالی کے سرکاری اجلاسوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
جب کبھی حکومت فلم انڈسٹری کے حوالے سے میٹنگز بلاتی، وہ لاہور کے فلمی نمائندوں کے ساتھ وہاں شریک ہوتے،دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے خرچے پر دیگر فلمی افراد کو ساتھ لے کر جاتے تاکہ سب کی آواز حکومت کے ایوانوں تک پہنچ سکے۔
ان کی یہی سوچ تھی کہ “فلم صرف ایک فرد نہیں، ایک ٹیم کی محنت ہے،چوہدری کامران اعجاز کئی فلمی تنظیموں کے صدر رہے،
جہاں انہوں نے فلم انڈسٹری کے حقوق، پروڈیوسرز کے مسائل، سینما مالکان کی شکایات،اور نئی فلمی پالیسیوں کے لیے ہمیشہ مؤثر آواز بلند کی۔
ان کی زندگی کا مقصد صرف ایک تھا — پاکستانی فلم کا وجود برقرار رہے۔آج جب وہ ہم میں نہیں رہے، تو رائل پارک کی گلیاں، فلمی دفاتر، اور وہ چائے کے گرد ہونے والی گفتگوئیں جیسے خاموش ہو گئی ہیں۔ان کی شخصیت صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد تھی ،ایک ایسا عہد جس نے فلم کو محبت، وابستگی اور خدمت کے جذبے کے ساتھ جیا۔
چوہدری کامران اعجاز کی وفات سے فلم انڈسٹری ایک سرپرست، ایک دوست، اور ایک رہنما سے محروم ہو گئی،ان کی یادیں، ان کے فیصلے اور ان کی کہانیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گی، ان کا جنازہ ہوگیا اور وہ منوں مٹی تلے دب گئے اور ان کے جنازے میں شریک ہر فرد ان کے جانے کا دکھ اپنی آنکھوں اور دکھی چہرے کے ساتھ لیکر قبرستان سے چلا گیا اور رائل پارک کے ڈیرہ چوہدری کامران اعجاز کو یاد کرتا رہا۔