جوہری پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مزید نچوڑ لیا، 12 لاکھ ریال کا 1 ڈالر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ایرانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی، ایک امریکی ڈالر 12 لاکھ ایرانی ریال کا ہو گیا،جوہری پابندیوں نے ایران کی بیمار معیشت کو مزید نچوڑ لیاہے۔
اسرائیل کے ساتھ جون میں چھ دن کی جنگ کے بعد ایرانی عوام اپنے پیسوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سونا، چاندی اور دیگر قابل منتقلی اثاثے خریدنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں ریال کی قدر میں مسلسل کمی نے گزشتہ بدھ کو نیا ریکارڈ قائم کیا اور اب ایک امریکی ڈالر کے بدلے 1.2 ملین ریال مل رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات رک گئے۔
رپورٹس کے مطابق ریال کی گرتی ہوئی قیمت نے خوراک اور دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے ایرانی شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
گوشت، چاول اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
53 سالہ الیکٹریکل انجینئر علی مشتاق نے کہ حکومت پابندیوں کی وجہ سے محدود غیر ملکی زر مبادلہ کے ساتھ ملکی بنیادی ڈھانچے کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے وسائل رکھتی ہے یا نہیں۔
ایران کی معیشت پر بین الاقوامی پابندیاں 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ نکلنے کے بعد سے سخت اثر ڈال رہی ہیں۔
اس وقت ریال کی قیمت 32,000 فی ڈالر تھی۔
ٹرمپ کے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی مہم نے ایران کی خام تیل کی فروخت کرنے والی کمپنیوں خاص طور پر چین میں ڈسکاؤنٹ پر فروخت کرنے والی کمپنیوں کو ہدف بنایا۔
ستمبر میں اقوام متحدہ نے ایران پر جوہری پابندیاں دوبارہ عائد کیں، جن میں ایرانی اثاثے منجمد کرنا، ہتھیاروں کے سودوں کو روکنا اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی پر پابندیاں شامل ہیں۔
جون میں اسرائیل کے ساتھ 6 روزہ جنگ کے بعد ایرانی عوام اپنے پیسے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے، چاندی، ہیرے، کرپٹو کرنسی اور دیگر قابل منتقلی اثاثے خریدنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
47 سالہ فاطمہ پارسا نے کہا کہ انہیں ماضی میں اپارٹمنٹ خریدنے کے بجائے سونا خریدنا چاہیے تھا کیونکہ عالمی سطح پر سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے اور یہ اثاثہ زیادہ محفوظ اور منافع بخش ثابت ہوا ہوتا۔
ایران کی کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، پابندیاں اور خطے میں کشیدگی عام شہریوں کے لیے مالی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال بڑھا رہی ہے، اور لوگ اپنی جمع پونجی کی حفاظت کے لیے ہر ممکنہ اقدام کر رہے ہیں۔