مہاجرین کی نشستوں پر انتخاب اوردیگرآئینی ترمیمیں صرف منتخب نمائندے کر سکتے ہیں، آزاد کشمیر میں آل پارٹیز اجلاس کافیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(احمد منصور) آزاد کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے آل پارٹیز اجلاس کے شرکا نے کشمیری مہاجرین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نشستوں پر انتخاب سے متعلق بعض انتخابی پیچیدگیوں کو اصلاحات کے ذریعے دور کرنے اور آئین میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کے تمام معاملات کو قانون ساز اسمبلی پر چھوڑ دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ آل پارٹیز کانفرنس نے آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کی اور واضح کیا کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے یا متنازعہ بنانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس آل پارٹیز اجلاس میں احتجاج کی کال دینے والی عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی۔
آل پارٹیز اجلاس آج آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ایوان وزیر اعظم میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی قیادت شریک ہوئی۔
آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مقصد احتجاج کی کال دینے والے گروپ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابلات پر تمام سیاسی پارٹیوں سے رائے لینا تھا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تمام پارٹیوں کے نمائندوں کی منظور کردہ قراردادیں میڈیا کے سامنے آ گئیں۔
آل پارٹیز کانفرنس کی ایک اہم قرارداد یہ تھی کہ سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں۔ آئینی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔
آل پارٹیز کانفرنس مظفرآباد کے اہم اجلاس کے بعدمیڈیا کو جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق آل پارٹیز اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی عمل اور عوامی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
آل پارٹیز اجلاس میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی طرف سے پیش کردہ قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی جس میں جمہوری عمل، آئینی تسلسل اور ریاستی استحکام کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔
اجلاس میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے شرکت کی۔اجلاس میں شریک ہونے والے رہنماؤں میں پاکستان مسلم لیگ کے شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری یاسین، مسلم کانفرنس کے سردار عتیق الرحمٰن کے علاوہ سردار فاروق حیدر خان، سردار یعقوب خان، سردار تنویر الیاس، احمدرضا قادری،مولانا سعید یوسف، یاسر عباس نقوی، ڈاکٹر الیاس بھی شامل تھے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔منتظمین نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کی آمد کا انتظار کیا جاتا رہا۔ انتظار کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی مشاورتی اور جمہوری عمل کا حصہ نہ بنی تو باقی جماعتوں کے نمائندوں نے مل کر مشاورت کا عمل شروع کیا۔
آل پارٹیز اجلاس نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
آل پارٹیز اجلاس کا مؤقف تھا کہ کشمیری عوام کی جائز جدوجہد آزادی کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی۔
آل پارٹیز اجلاس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر، استبداد اور مظالم کو ناقابل قبول قرار دیا اور اپنی قرارداد میں کہا کہ حریت قیادت اور کشمیری سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی اور قید قابل مذمت ہے۔
آل پارٹیز اجلاس نے قرار دیا کہ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتی ہیں۔
آل پارٹیز اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری تسلسل اور آئینی عمل ریاستی استحکام کی بنیاد ہیں۔ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنایا جائے گا۔
آل پارٹیز اجلاس نے قرارداد میں کہا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سیاسی اختلاف کو نظم و نسق یا جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
آل پارٹیز اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقے برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ سیاسی رویہ ناگزیر ہے۔
آل پارٹیز اجلاس کا مؤقف تھا کہ آل پارٹیز اجلاس قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ قومی سلامتی کے ادارے آزاد جموں و کشمیر کے ریاستی استحکام کا اہم ستون ہیں۔
قرارداد میں یہ نوٹ کای گیا کہ دشمن ملک بھارت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ بھارت ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کی بھارتی کوششیں کسی صورت میں بھی قابل برداشت نہیں ہیں۔
اجلاس نے طے کیا کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں ہوں گے۔ آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن انتخابات یقینی بنائے جائیں گے۔ عام انتخابات کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ عوام کو بلا خوف و خطر، دباؤ یا مداخلت کے اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا ماحول فراہم کیا جائے گ۔
آل پارٹیز اجلاس نے واضح کیا کہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے یا متنازعہ بنانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتخابی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سخت سدباب کیا جائے گا ۔
آل پارٹیز اجلاس کی قرارداد میں کہا گیا کہ جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اجلاس کے شرکا نے مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اپنی قرارداد میں کہا کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق بعض انتخابی پیچیدگیوں کو اصلاحات کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پی پی سے ملاقات مثبت رہی، 10 جون کو بامقصد بجٹ پیش کریں گے، وفاقی وزیر خزانہ
آل پارٹیز اجلاس کی قرارداد مین مزید کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔
آل پارٹیز اجلاس نے کہا کہ آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں۔ آئینی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے۔
آل پارٹیز اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔
قرارداد میں آئینی اصلاحات کے لیے وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
آل پارٹیز کانفرنس نے واضح کیا کہ مسائل کا حل مکالمہ، قانون، آئین اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آل پارٹیز اجلاس کا پیغام واضح ہے، آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، آئینی اصلاحات اور ریاستی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

