شہر لاہور کی ثقافت کا مرکز ۔الحمرا ۔ اب بین الاقوامی طرز پر بننے کو تیار
زین مدنی حسینی
Stay tuned with 24 News HD Android App
لاہور کا الحمرا آرٹ سینٹر صرف ایک ثقافتی عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی فنّی تاریخ کا وہ روشن حوالہ ہے جس نے سات دہائیوں میں بے شمار فنکاروں، شاعروں، موسیقاروں، مصوروں اور تخلیقی ذہنوں کو جنم دیا۔
1949 میں لاہور آرٹس کونسل کے قیام کے ساتھ جس ادارے کا تصور ابھرا، وہ بعد میں الحمرا آرٹ سینٹر کی صورت میں سامنے آیا، اور آج یہ شہر لاہور کا سب سے بڑا ثقافتی مرکز ہے۔ ’’الحمرا‘‘ نام عربی لفظ سے ماخوذ ہے جو سرخ لباس میں ملبوس عورت کے معنی رکھتا ہے، اور اسی سرخی کا تعلق اسپین کے شہر قرطبہ کے اس تاریخی ریڈ کمپلیکس سے جوڑا جاتا ہے جس کی سرخ اینٹیں تہذیب کی شان سمجھی جاتی تھیں؛ وہی رنگ، وہی تہذیب اور وہی جمالیات لاہور نے اپنے دل میں سموئیں۔ الحمرا کے فنِ تعمیر کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور اسے ایک جدید مگر روایتی ثقافتی مرکز کے طور پر قائم کرنے کا اعزاز پاکستان کے نامور آرکیٹیکٹ نیئر علی دادا کو جاتا ہے جنہوں نے اس کمپلیکس کو جدید صوتی تقاضوں اور کثیرالجہتی ثقافتی سرگرمیوں کے مطابق تعمیر کیا۔ اس کا پہلا مرحلہ ایک ہزار نشستوں والے آڈیٹوریم کی شکل میں 1979 میں مکمل ہوا، جبکہ پوری عمارت 1992 میں پایۂ تکمیل کو پہنچی، اور اسی منفرد فنِ تعمیر کے باعث الحمرا کو 1998 میں آغا خان ایوارڈ برائے تعمیرات سے نوازا گیا۔
لاہور آرٹس کونسل نے ہمیشہ الحمرا کو صرف ایک تھیٹر یا ہال نہیں سمجھا بلکہ اسے ادب، مصوری، موسیقی، رقص، ڈرامہ اور تخلیقی تربیت کا ایسا مرکز بنایا جہاں گیلریاں، میوزیم، آرٹ ورکشاپس اور اکیڈمیز نوجوانوں کے لیے کئی دہائیوں سے فعال ہیں۔ آج جب پنجاب حکومت نے اس تاریخی ادارے کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے جدید تقاضوں کے مطابق اس کی مکمل تزئین و آرائش کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت الحمرا میں جدید لائٹس، اعلیٰ معیار کا ساؤنڈ سسٹم، نئی کرسیاں، نیا قالین، جدید سکیورٹی سسٹم اور اپ گریڈڈ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ یہ کام مرحلہ وار مکمل ہوگا اور پہلے مرحلے میں آرٹ گیلری اور پپٹ ہال کی تزئین و آرائش کا کام باقاعدہ شروع ہو چکا ہے، جہاں چھت، لائٹس، ڈسپلے سسٹم اور اندرونی تعمیر نو پر بھرپور کام جاری ہے۔ یہ نہ صرف عمارت کی مرمت ہے بلکہ اس تاریخی ورثے کی وہ تجدید ہے جس نے 70 سال سے زیادہ عرصہ فنونِ لطیفہ کے ہر شعبے کو نئی زندگی دی۔ حکومت پنجاب کی اس توجہ کا مقصد الحمرا کو ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے نمایاں ثقافتی مراکز میں شامل کرنا ہے، تاکہ یہاں ہونے والی نمائشیں، تھیٹر، ورکشاپس، موسیقی کی محفلیں اور بین الاقوامی ثقافتی تقاریب عالمی سطح کے معیار پر ہوں۔ یوں الحمرا کی یہ نئی بحالی دراصل اُس سفر کا تسلسل ہے جو 1949 میں شروع ہوا تھا، اور اب یہ ادارہ ایک بار پھر پوری شان سے فن و ثقافت کا دل بن کر دھڑکنے کو تیار ہے۔