نورِ سحر میں’’ولادت امام حسن عسکریؑ اور عظمتِ اہلبیت علیہم السلام‘‘ موضوع پُربصیرت افروز علمی نشست

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اہلبیتؑ کی محبت ہم پر قرض بھی ہے اور فرض بھی

Oct 02, 2025 | 10:52:AM
نورِ سحر میں’’ولادت امام حسن عسکریؑ اور عظمتِ اہلبیت علیہم السلام‘‘ موضوع پُربصیرت افروز علمی نشست
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی و فکری ٹی وی پروگرام "نورِ سحر" میں ایک پُراثر اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع: ولادت امام حسن عسکریؑ اور عظمتِ اہلبیت علیہم السلام" تھا ۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ اہلبیتؑ کی محبت ہم پر قرض بھی ہے اور فرض بھی۔

انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری اہل بیتؑ۔

 آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: میں تمہیں اپنے اہل بیتؑ کے بارے میں اللہ سے ڈراتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اولاد کو تین بنیادی باتوں کی تعلیم دینے کا حکم دیا: اپنی محبت، اہل بیتؑ کی محبت اور قرآن کی تعلیم، انہی میں دنیا و آخرت کی نجات پوشیدہ ہے۔

علامہ حسن رضا باقر نے کہا کہ اہلبیتؑ کی مودت محض اختیاری عمل نہیں بلکہ واجب ہے۔

انہوں نے ایک حدیثِ نبوی ﷺ نقل کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص اہل بیتؑ سے محبت رکھتا ہے، وہ قیامت کے دن رسول ﷺ کی شفاعت کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔

انہوں نے امام حسن عسکریؑ کی حکمت، صبر اور بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک واقعہ بھی بیان کیا، جو امامؑ کی فہم و فراست کا آئینہ دار تھا۔

پروفیسر انجم گیلانی نے اپنی گفتگو میں ائمہ اہل بیتؑ کو ایک ایسے دریا سے تشبیہ دی جس کا منبع ذاتِ رسول ﷺ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نہروں کا پانی دریا سے آتا ہے، اسی طرح علم و معرفت کا سرچشمہ نبی کریم ﷺ ہیں، اور ائمہ اہل بیتؑ اسی تسلسل کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسن عسکریؑ نے بھی اپنے اسلاف کی طرح اسلام کی حقانیت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

پروفیسر سید فہد کاظمی نے اپنی گفتگو کا آغاز ایک المناک حقیقت سے کرتے ہوئے کہا کہ افسوس ! امت آج تک رسول اللہ ﷺ کی آل کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ائمہ اہل بیتؑ میں سے کسی کی شہادت طبعی نہیں ہوئی، بلکہ سب پر ظلم و ستم ڈھائے گئے۔ ایسی صورت میں یہ امت، جنہوں نے نبی ﷺ کے اہل خانہ پر مظالم ڈھائے، قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کو کیا منہ دکھائے گی؟

انہوں نے امام حسن عسکریؑ کا ایک قول نقل کرتے ہوئے کہا: جو اس دنیا میں دل کا اندھا ہے، وہ آخرت میں بھی اندھا اٹھایا جائے گا۔انہوں نے وضاحت کی کہ قیامت کے دن جب یہ لوگ اللہ سے سوال کریں گے کہ ہم اندھے کیوں اٹھائے گئے، تو جواب دیا جائے گا: تم نے میری نشانیوں( میری اہل بیتؑ )کو جھٹلایا اور نظرانداز کیا، اسی لیے آج تم دل کے اندھے ہو۔