جعلی پولیس مقابلہ کی وائرل ویڈیو پر آئی جی کا ایکشن، پولیس اہلکار حوالات میں بند
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اخلاق چانڈیو) لاڑکانہ میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں شہریوں کے سامنے شہری کےقتل پر لواحقین اور علاقہ کے لوگ سراپا احتجاج بن گئے۔ انسپکٹر جنرل سندھ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
لاڑکانہ میں ایک شہری علی گل کلہوڑو کو مبینہ ملزم قرار دے کر مارنے کے واقعے پر شہریوں کا ا حتجاج سامنے آنے کے بعد نئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری نوٹس لیا اور اس واقعہ کی چھان بین کے لئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔ آئی جی نے ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب پٹھان کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے۔ پولیس کے اہلکار عرض محمد جتوئی کو لاک اپ میں بند کر دیا گیا ہے۔ تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا۔
27 دسمبر کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی والی رات پر پولیس کے بعض اہلکاروں نے ایک شہری کو زندہ گرفتار کیا اور بعد مین مار کر پولیس مقابلہ قرار دینے کی کوشش کی۔ اس واقعہ کے مقتول ملزم کو پکڑ کر مارنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس وڈیو میں زخمی مبینہ ملزم کو سڑک پر پڑے دیکھا جا سکتا ہے پولیس اہلکاراس زخمی ملزم کو پستول سے گولیاں مارتے دکھائی دے رہا ہ۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے کے بعد احتجاج ہوا تو انسپکٹر جنرل جاوید عالم اوڈھو نے اس پر فوری ایکشن لے لیا۔ جاوید عالم اوڈھو نے سال کے پہلے دن ہی آئی جی سندھ کی پوسٹ پر باقاعدہ کام شروع کیا ہے۔
چار روز قبل او پی ایف کالونی کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق مقابلے میں اہلکار زیب جتوئی زخمی ہوا تھا اور پولیس نے علی گل کلہوڑو نامی ملزم کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ملزم کا تعلق ضلع قمبر شہدادکوٹ کے علاقعے مہی مکول سے ہے
لواحقین لاڑکانہ پولیس کے اہلکار کے ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کیلئے سڑک پر آ گئے۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو سے انصاف دلوانے کی درخواست کی۔نقتول کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہمارے والد علی گل کلہوڑو کسان ہیں۔ وہ شہید بینظیر کی برسی پر گیا جس کے بعد وہ لارکانہ ہمارے لیے گرم کپڑے خریدنے کے لیے گیا تھا تو واپس نہ آیا اس پر کسی قسم کا مقدمہ درج نہیں تھا، ہم پی پی کے سپورٹر ہیں، مقتول بھی پی پی کارکن تھا۔ ہم نے اس کے قتل کی وڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی تو اس ظلم کا پتہ چلا، عدالت اور قانون کس لئے ہیں ایسے سرعام گولیاں مار کر قتل کرنا کہاں کا قانون ہے ۔
علاقہ کے دیگر مکینوں نے بھی مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کرواکر انصاف کیا جائے جس سے قانون کی رٹ بحال ہوسکے اور گولیاں مارنے والے کو سزا دی جائے۔