تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس,احتجاجی حکمت عملی سامنے آ گئی 

Feb 02, 2026 | 19:29:PM
 تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس,احتجاجی حکمت عملی سامنے آ گئی 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(طیب سیف)اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی احتجاجی حکمت عملی سامنے آ گئی۔ 

ذرائع کے مطابق اجلاس میں 8 فروری کے احتجاج کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،احتجاج میں کسی بھی صوبے اور شاہراہ کی بندش کا فیصلہ نا ہو سکا،اجلاس میں نوجوان اراکین نے بھر پور احتجاج کا مشورہ دیا جسےاعلیٰ قیادت نے پھر مسترد کر دیا ۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سینئر اراکین نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ہم پر سختی ہے،احتجاج ممکن نہیں،خیبر پختونخواہ کو بند کرنا ناانصافی ہےاگر خیبر پختونخواہ کو بند کیا تو لوگ ہم سے ہی شکوہ کرے گے کہ ووٹ بھی دیا اور صوبہ بھی بند کروا لیا۔
 ذرائع نے بتایاکہ اجلاس مین وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا،اجلاس کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات نے پورے ملک کے عوام میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔

اجلاس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا  نے وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات کو خوش آئند قرار دیا ۔ 

اجلاس میں شدید موسمی حالات کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور مکمل ازالے کا مطالبہ کیا گیااورخیبر جرگہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کی گئی۔

اجلاس میں 8 فروری کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے سٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا،اجلاس میں سندھ اور پنجاب میں پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :  خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں کو پشاور کیساتھ  ملانے کےمنصوبے پر عملی کام شروع