تھکاوٹ ، ذہنی دبائوانسانی آنکھ پھڑکنےکی بڑی وجوہات قرار 

Apr 01, 2026 | 18:20:PM
تھکاوٹ ، ذہنی دبائوانسانی آنکھ پھڑکنےکی بڑی وجوہات قرار 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز ) نیند کی کمی، بہت زیادہ تھکاوٹ، ذہنی دبائو وہ وجوہات ہیں جوکہ اکثر آنکھ پھڑکنے کا سبب بنتی ہیں ، ایک عام مسئلہ ہے جسے طبی زبان میں آئی لِڈ مایوکیمیا (eyelid myokymia) کہا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق پلکوں کے پٹھوں کی غیر ارادی اور بار بار ہونے والی حرکت ہے جو اکثر وقتی اور بے ضرر ہوتی ہے، اگرچہ متاثرہ شخص کو یہ زیادہ محسوس ہوتی ہے جبکہ دوسروں کو عموماً نظر نہیں آتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں یہ جسم میں کسی عدم توازن کا اشارہ ہوتا ہے، زیادہ اسٹریس پٹھوں میں تناؤ پیدا کرتا ہے جو چہرے کے اعصاب کو متحرک کر کے پلک پھڑکنے کا سبب بن سکتا ہے، ناکافی نیند یا شدید تھکاوٹ آنکھوں کے پٹھوں پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے جھٹکے یا لہریں پیدا ہوتی ہیں۔

کافی، چائے، انرجی ڈرنکس یا الکحل اعصابی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کر سکتے ہیں، زیادہ دیر تک اسکرین کا استعمال کرنا یا بغیر وقفے کے مطالعہ کرنا آنکھوں کی تھکن کا باعث بنتا ہے، میگنیشیئم، پوٹاشیئم یا وٹامن بی 12 کی کمی بھی پٹھوں کے کھنچاؤ سے جڑی ہوئی ہے۔

خشک آنکھیں، الرجی یا فضائی آلودگی بھی پلکوں میں غیر ارادی حرکت پیدا کر سکتی ہے،اعصابی نظام پر اثر انداز ہونے والی بعض ادویات کے نتیجے میں بھی آنکھ پھڑک سکتی ہے۔

جھٹکے چہرے یا جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جائیں یا بینائی میں تبدیلی یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر کیسز میں آرام، مناسب نیند اور کیفین کم کرنے سے مسئلہ خود ہی ختم ہو جاتا ہے تاہم مسلسل علامات کی صورت میں احتیاط ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں :روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مہنگا ہوگیا