شعیب خان اب لمبے لمبے چھکے لگائیں گے، بہترین پرفارمنس پر سلیکٹ کرلیا گیا

Oct 31, 2025 | 17:36:PM
 شعیب خان اب لمبے لمبے چھکے لگائیں گے، بہترین پرفارمنس پر سلیکٹ کرلیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست بہار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے شعیب خان اب دنیا کے مختلف ممالک میں لمبے لمبے چھکے لگاتے نظر آئیں گے۔ ریاست بہار  کے گیا ضلع کے انتہائی نکسل متاثرہ امام گنج بلاک علاقے کی کوٹھی کے رہنے والے شعیب خان کو متحدہ عرب امارات کی قومی ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔  شعیب نے UAE کی ڈویلپمنٹ لیگ ILT-20 میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا ، بہترین پرفارمنس کے بل بوتے پراب وہ  متحدہ عرب  امارات   کی کرکٹ ٹیم  کیلئے کھیلیں گے۔
 
بھارت کی اردو ویب نیوز کے مطابق نکسلی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے شعیب خان کی جدوجہد اور ہمت کی کہانی بھی متاثر کن ہے۔ یہاں تک کہ مناسب تعلیمی اور کھیلوں کی سہولیات نہ ہونے کے باوجود، وہ  اپنے خوابوں کا تعاقب کرتے رہے۔ شعیب کے والدین نے ابتدا میں انہیں  کھیلوں میں حصہ لینے سے روکا ، کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ ان کا لڑکا کرکٹ میں  اپنے کیریئر بنا سکے گا، تاہم شعیب خان  ثابت قدم رہے۔ آہستہ آہستہ انہوں  نے ضلع اور یونیورسٹی کی سطح کی کرکٹ ٹیموں میں جگہ بنائی ۔شعیب کو بچپن سے ہی کرکٹ کا شوق تھا لیکن گاؤں میں ایسی سہولیات کا فقدان تھا۔ ان  کے والد جو کہ پیشے کے لحاظ سے ایک کسان تھے، انہوں نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں  نے خود بی اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں اور اپنے تمام بچوں کو اچھی تعلیم فراہم کی۔ ان دنوں گاؤں میں اچھے اسکول نہیں تھے، اس لیے انہوں  نے شعیب کو  ضلع گیا کے  گیان بھارتی اسکول میں داخل کرایا۔ یہیں پر شعیب نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا، ٹینس بال سے پریکٹس کی۔

رپورٹ کے مطابق شعیب کے بڑے بھائی التماس خان  جو گیا ضلع میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈویژن میں خدمات انجام دے رہے  ہیں  نے بھارتی اردو نجی ٹی وی   کو بتایا کہ اسکول کی سطح پر کرکٹ کھیلنے کے بعد، شعیب خان نے ضلع اور ریاستی سطح کے ٹورنامنٹس میں بھی حصہ لیا۔ اس بیچ ان کا ایڈمیشن جامعہ ملیہ اسلامیہ  دہلی میں ہوگیا  ، جہاں انہوں نے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ کرکٹ کھیلنا جاری رکھا۔ ان کی شاندار کارکردگی کی بنیاد پرشعیب کو یونیورسٹی کی ٹیم کے لیے منتخب کیا گیا اور انہوں  نے ملک کے کئی سرکردہ کھلاڑیوں کے ساتھ چیریٹی میچز اور یونیورسٹی ڈویلپمنٹ ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔بہار کی  رنجی ٹیم میں جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد، شعیب مایوس ہو گئے اور یہاں تک کہ کرکٹ چھوڑنے پر غور کرنے لگے۔ انہوں  نے اپنے ملک کے لیے کھیلنے کا خواب دیکھا تھا ، لیکن یہاں  انھیں رنجی ٹیم میں بھی جگہ نہیں مل سکی۔ دبئی میں کرکٹ کھیلنے کا علم ہوتے ہی شعیب نے وہاں جانے کی تیاری شروع کر دی۔ ان  کے والد نے ان کی مکمل حمایت کی، مہینوں تک شعیب کو  گھر سے پیسے بھیجتے رہے ۔ دھیرے دھیرے ، انہوں  نے دبئی اور شارجہ کے کئی کلبوں کے لیے کھیلنا شروع کیا اور خود کو ایک پیشہ ور کرکٹر کے طور پر قائم کرنا شروع کیا۔شعیب کی محنت رنگ لائی  اور اب وہ متحدہ عرب امارات کی قومی ٹیم کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔ منگل کے روز  انہوں نے امریکہ کے خلاف اپنا ڈیبیو کیا، لیکن بدقسمتی سے رن آؤٹ ہونے سے پہلے انہوں نے  29 گیندوں پر 28 رنز بنائے۔ اس سے قبل شعیب خان کو دبئی کی مقامی کرکٹ میں بہترین فیلڈنگ کی مہارت پر امارات کرکٹ بورڈ نے اعزاز سے نوازا ہے۔ گزشتہ سال انہیں پلیئر آف دی میچ اور بہترین فیلڈر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ مل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، 14 اشیا مہنگی،10 سستی ہوئیں