عالمی آئل کمپنی کے سابق ملازم کو اربوں کا تیل چوری کرنے پر 21 سال قید

Mar 31, 2026 | 10:48:AM
عالمی آئل کمپنی کے سابق ملازم کو اربوں کا تیل چوری کرنے پر 21 سال قید
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سنگاپور کی عدالت نے عالمی آئل کمپنی کے ایک سابق ملازم کو اربوں روپے مالیت کے ایندھن چوری سکینڈل میں مرکزی کردار ادا کرنے پر 21 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

سنگاپور کی عدالت نے Shell کے سابق ملازم رچرڈ گوہ چی کیونگ کو 10 کروڑ ڈالر مالیت کے ایندھن چوری اسکینڈل میں مرکزی کردار ادا کرنے پر 21 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

56 سالہ شہری نے 24 الزامات کا اعتراف کیا، جبکہ مزید 26 الزامات کو بھی سزا سناتے وقت مدنظر رکھا گیا۔

 عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزم نے 2014 سے 2018 کے دوران پولاؤ بکوم تنصیب سے میرین گیس آئل چوری کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم اس دوران کم از کم 15 لاکھ ڈالر کے غیر قانونی فوائد حاصل کرتا رہا، جنہیں اس نے جائیداد، گاڑیوں اور مختلف سرمایہ کاری میں استعمال کیا۔

مزید پڑھیں:دبئی کا کاروباری شعبے کیلئے ایک ارب درہم کے امدادی پیکیج کا اعلان

 حکام کے مطابق ملزم نے دیگر افراد کو اس منصوبے میں شامل کیا، چوری شدہ تیل کو جہازوں پر منتقل کرنے کے انتظامات کیے اور نگرانی کرنے والے عملے کو رشوت دے کر کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔

 اس مقصد کے لیے پائپ لائنز کے راستے تبدیل کیے گئے، میٹرز کو بائی پاس کیا گیا اور بعض اوقات انہیں عارضی طور پر خراب بھی کیا گیا تاکہ چوری کا ریکارڈ ظاہر نہ ہو۔

کیس میں ملوث دیگر اہم ملزمان میں عبد اللطیف ابراہیم کو 25 سال 2 ماہ جبکہ جواندی پنگوٹ کو 29 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس گروہ نے لاکھوں ٹن گیس آئل غیر قانونی طور پر نکالا۔

کمپنی نے 2015 میں غیر معمولی نقصانات کا نوٹس لیا اور 2017 میں پولیس کو رپورٹ درج کرائی، جس کے بعد وسیع تحقیقات کے نتیجے میں اس بڑے سکینڈل کا پردہ فاش ہوا۔

عدالت نے ملزم کے ضبط شدہ 10 لاکھ 70 ہزار ڈالر مالیت کے اثاثے کمپنی کو بطور معاوضہ واپس کرنے کا حکم بھی دیا ہے، جبکہ اسے 20 اپریل کو خود کو حکام کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔