جولائی سے ستمبر تک موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی جاری کر دی

Jun 30, 2026 | 17:17:PM
جولائی سے ستمبر تک موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی جاری کر دی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی) محکمہ موسمیات نے جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ملک بھر کے موسم سے متعلق پیشگوئی جاری کر دی ہے  جس کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، پنجاب اور جنوبی خیبر پختونخوا میں معمول سے زیادہ گرمی پڑنے کا امکان ہے جبکہ شمالی علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی خیبر پختونخوا میں معمول کے مطابق یا معمول سے کچھ زیادہ بارش متوقع ہے جس کے باعث فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔

پیش گوئی کے مطابق پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد بڑھنے کا امکان ہے جبکہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بڑے شہروں میں شدید بارشوں کے دوران شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور کشمیر میں زیادہ درجہ حرارت برف پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے  جبکہ زیادہ گرمی کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

ادارے کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں معمول سے کم بارش کے باعث خریف کی اہم فصلوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے اور آبپاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔

پیشگوئی میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں فرق کے باعث تیز ہوائیں، گرد آلود آندھیاں، گرج چمک اور ژالہ باری سے فصلوں، سبزیوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ کسانوں کو کھڑی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ گرمی کے باعث وقفے وقفے سے ہیٹ ویو اور شدید گرمی کی کیفیت پیدا ہونے کا امکان ہے جبکہ جنوبی پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں گرمی کے دباؤ میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ زیادہ گرم موسم کے باعث ڈینگی سمیت مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ خاص طور پر جنوبی علاقوں کے بڑے شہروں میں ڈینگی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق معمول سے کم بارش کے باعث زرعی شعبے میں ذخیرہ شدہ اور زیر زمین پانی پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے  جبکہ بارش کی کمی کے باعث موسمی سبزیوں اور خریف کی فصلوں کی آبپاشی کے لیے خصوصاً سندھ اور پنجاب میں اضافی پانی درکار ہو سکتا ہے۔

پیشگوئی میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں کے درمیان طویل وقفوں سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے میدانی علاقوں میں گرمی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ جولائی کے دوران شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر طویل وقت تک کھلے مقامات پر رہنے سے گریز کریں  جبکہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک دھوپ میں غیر ضروری نقل و حرکت سے اجتناب کریں۔

عوام کو زیادہ پانی پینے، ہلکے اور ڈھیلے کپڑے پہننے اور ممکنہ حد تک سایہ دار یا ٹھنڈی جگہوں پر رہنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ بزرگ افراد، بچوں اور کھلے ماحول میں کام کرنے والوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے کسانوں کو آبپاشی یا فصلوں کی کٹائی سے پہلے تازہ ایڈوائزری دیکھنے کی ہدایت کی ہے  جبکہ مسافروں اور سیاحوں کو بارشوں کے دوران سفر کرتے وقت احتیاط برتنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :  35 سے 40 ڈگری درجۂ حرارت جنوبی ایشیاء میں معمول، یورپ میں قیامت خیز کیوں؟