انڈونیشیا کا بایو فیول منصوبہ، عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )دنیا کے سب سے بڑے پام آئل پیدا کرنے والے ملک انڈونیشیا نے اپنا نیا بایو فیول پروگرام تیزی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں پام آئل کی رسد پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کے تحت پام آئل کو زیادہ مقدار میں بایو ڈیزل میں استعمال کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی برآمدی سپلائی کم ہو سکتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ اقدام صدر پربووو سبیانتو کی توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کی ایندھن پر بیرونی انحصار کم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت پر اچانک پابندی،ڈیلرز پریشان!
ماہرین کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف انڈونیشیا کی اندرونی صنعت پر دباؤ ڈالے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پام آئل کی دستیابی کم کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی ممالک پہلے ہی متبادل توانائی ذرائع کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ مکمل رفتار سے نافذ ہوا تو ملائیشیا اور برازیل جیسے دوسرے زرعی ممالک بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر غور کر سکتے ہیں، جس سے عالمی اجناس کی مارکیٹ میں مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔