نیب نے 6500 کنال ایمینٹی اور پبلک سپیس لینڈ سی ڈی ای کے نام ٹرانسفر کروا دی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) نیب اسلام آباد، راولپنڈی نے 6500 کنال ایمینٹی اور پبلک سپیس لینڈ سی ڈی ای کے نام ٹرانسفر کروا دی۔
نیب کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ نیب کی کوششوں سے گلبرگ ریزیڈینشیا کی 5,484.76 کنال اور مارگلہ ویو ڈی-17 کی 999 کنال اراضی سی ڈی ای کے نام ٹرانسفر کروا دی گئی ہے۔
نیب اسلام آباد ، راولپنڈی نے سیٹیزن سنٹرڈ احتسابی ماڈل، عوامی خدمت اور ریاستی وسائل کا تحفظ یقینی بنا رہی ہے اور روک تھام، نظامی اصلاحات اور بین الادارہ ہم آہنگی پر مبنی مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
دو سوسائٹیوں میں اراضی کی سی ڈی ای کے نام منتقلی کو شہری سہولیات کے تحفظ اور عوامی حقوق کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نیب کے بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اہمنٹی لینڈ کے حوالے سے زمین کی فوری منتقلی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
پہلے مرحلے میں گلبرگ ریزیڈینشیا کی 5,484.76 کنال اور مارگلہ ویو ڈی-17 کی 999 کنال سہولتی اراضی سی ڈی اے کے حق میں منتقل کر دی گئی، جس کی رجسڑی منتقلی کی تقریب نیب اسلام آباد/راولپنڈی میں منعقد کی گئی جبکہ دیگر سوسائٹیز کی اراضی منتقلی کے کیسز بھی مرحلہ وار تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔
اس وقت تک ملنے والی معلومات کے مطابق، انتقال کی جانے والی زمین کی کل مالیت ڈی سی ریٹ کے مطابق 41 بلین روپے ہے جبکہ پبلک ایریا کی مارکیٹ ویلیو 25.43 بلین روپے بتائی جا رہی ہے۔ کل تقریبا 66ارب روپے کی مالیتی زمین سی ڈی اے کے نام ٹرانسفر کرائی گئی ، آئندہ ہفتوں میں دیگر سوسائیٹیز کی تقریبا 4500 کنال زمین مزید سی ڈی اے کے نام منتقل کی جائے گی۔
قانون کے مطابق ایمینٹی لینڈ، بعد از رجسٹری بحق ریگو لیٹر کی منتقلی بذریعہ انتقال ہونا بھی ضروری ہوتا ہے تا کہ مستقبل میں جائیداد کی منتقلی میں کوئی غیر قانونی کام نہ ہو سکے۔
کئی ایک ہاوسنگ سوسائیٹیز کی زمین جو عرصہ تین دہائی سے زائد تعطل کا شکار تھی، اس موثر حکمت عملی سے سال 2026 میں منظور ہوئی۔
نیب کے بیان میں بتایا گیا کہ سویلین ایمپلائز ہاوسنگ سوسایٹی کی ٹرانسفر کا معاملہ لگ بھگ 31 سال سے پینڈنگ تھا۔ اب نیب کی کاوشوں سے انتقال زمین درج کیا گیا۔
یہ اراضی پارکس، تعلیمی اداروں، صحت مراکز اور دیگر عوامی سہولیات کیلئے مختص تھی۔ تاخیر اور بے ضابطگیوں کے باعث کئی مثالوں میں چائنہ کٹنگ اور دیگر اقدامات کے زریعے زمین خورد برد کی جا رہی تھی۔ اب نہ صرف ان زمینوں کو محفوظ بنایا گیا ہے بلکہ انہیں اصل مقصد کے مطابق عوامی استعمال میں لانےکو یقینی بنایا جا سکے گا۔
نیب کے بیان کے مطابق 2,500 کنال سے زائد اراضی کی میوٹیشنز بھی زیرِ غور ہیں، جنہیں جلد مکمل کرنے کیلئے کارروائی جاری ہے۔
ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے اس عمل کو وسعت دیتے ہوئےاسلام آباد اور راولپنڈی ڈویژن کی باقی ماندہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کی سہولتی اراضی کی سی ڈی اے اور آر ڈی اے کو منتقلی کا ٹاسک بھی سونپ دیا ہے۔
اس عمل کو راولپنڈی ڈویژن کے دئگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا۔ جس کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد عامر مارتھ، اسماء چوہدری اور ساجد خان کو ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں، اس عمل کی نگرانی ڈائریکٹر نیب رضوان خان کر رہے ہیں۔