پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا؛وزیراعظم کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات میں گفتگو

Mar 29, 2026 | 19:58:PM
پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا؛وزیراعظم کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات میں گفتگو
کیپشن: وزیراعظم شہبازشریف سے سعودی وزیر خارجہ ملاقات کررہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)وزیراعظم شہبازشریف سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ملاقات کی۔پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ 

وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی موجود تھے۔

ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ وزیر اعظم نے سعودی وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا اور خادم الحرمین الشریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جبکہ ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کیلئے بھی نیک خواہشات کا پیغام دیا۔

پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجودہ بحران کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اختیار کردہ غیر معمولی تحمل کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں ولی عہد کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیا، جن میں 12 مارچ کو جدہ میں ہونے والی ملاقات بھی شامل ہے۔ انہوں نے سعودی وزیر خارجہ کو موجودہ بحران کے دوران پاکستان کی وسیع سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جن میں کشیدگی کم کرنے اور امریکہ و ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں شامل ہیں۔

مسلم امہ میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس نازک وقت میں اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

سعودی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خطے کی صورتحال پر سعودی عرب کے مؤقف سے آگاہ کیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں اور قریبی رابطے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں:یو اے ای کے بعد ایران سے افسوسناک خبر آ گئی