پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب کے خطاب کے دوران  اپوزیشن ارکان کا شورشرابا

Apr 29, 2026 | 19:37:PM
 پنجاب اسمبلی میں مریم اورنگزیب کے خطاب کے دوران  اپوزیشن ارکان کا شورشرابا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( راؤ دلشاد)  پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سینئیر وزیر  مریم اورنگزیب کےخطاب کے دوران  اپوزیشن ارکان نے شورشرابا اور نعرےبازی شروع کر دی۔

مریم اورنگزیب  نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا،  اپوزیشن رکن اعجاز شفیع نے یہاں جتنی باتیں کیں، ان کی ایک بات  بھی درست نہیں ۔

مریم اورنگزیب  نے کہا، اعجاز شفیع نے جو پوائنٹس اٹھائے ان پر میں بات کروں گی  اور حقائق بیان کروں گی۔

مریم اورنگزیب  نے بتایا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بجٹ تیس بلین ایک تیس بلین ہے ۔

مریم اورنگزیب  نے بتایا کہ  پنجاب میں بارہ لاکھ کسان کارڈ اور بیس ہزار ٹریکٹر دیئے گئے ہیں ۔

مریم اورنگزیب  نے کہا،  جو حکومت یہ پی ٹی آئی والے کر کے گئے اس سے زیادہ بجٹ ہ ہم نے رکھا ہے۔  

اپوزیشن نے فلور پر جھوٹ بولا ہے

مریم اورنگزیب  گفتگو کر رہی تھیں کہ اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے شور شرابا اور نعرے لگانا شروع کر دیا۔ 

ترتیب سے ایوان کو چلانے دیں، سپیکر کی درخواست

سپیکر کو کہنا پڑا کہ میں ایک تشویشناک صورتحال سے نبرد آزما ہوں۔ اچھا ہورہا ہے یا برا ہورہا ہے میں آپ لوگوں سے سننا چاہتا ہوں۔ مجھے ترتیب سے ایوان کو چلانے دیں ورنہ یہیں رات کے بارہ بج جائئیں گے۔ 

وقاص مان

سر اس کا ستائیس نمبر یہ ہے کہ عدالت اس کی کسی بات پر نوٹس نہیں لے سکتی۔ پنجاب حکومت کا یہ کام رہا ہے کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد اپنی مرضی کررہے ہیں

کیا یہ بتاسکتے ہیں کہ مریم نواز اور اس حکومت کی تشہیر پر کتنا پیسہ خرچ ہوا۔

سپیکر نے وقاص مان کو تنبیہہ کی اور کہا،  میں آپ سے کہوں گا بل پر بات کریں۔

اپوزیشن رکن وقاص مان نے کہا،  مریم اورنگزیب بتادیں کہ  گیارہ ارب کا جہاز کیوں چل رہا  ہے۔ 

اپوزیشن رکن بریگیڈرز ر مشتاق 

آج فنون لطیفہ کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرچکے ہیں۔

کچھ لوگ پہلے بھی آلہ کار بنے ہوئے تھے آج بھی بنے ہوئے ہیں۔

ایک طرف مقدس ایوان کی ویلیو ختم کردی ہے۔

آپ ان لوگوں کو شامل کررہے ہیں جو اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔

کیا آپ نے یہ بیوروکریسی کے ذریعے کرنا ہے۔

اپوزیشن رکن سمیع اللہ

بریگیڈئر مشتاق اچھا بولنے والے ہیں۔

ان ترامیم میں بریگیڈئر مشتاق کا نام ہی نہیں ہے ۔

سپیکر  نے سمیع اللہ کو ٹوکا اور کہا، سمیع صاحب کیا کررہے ہیں مجھے ہاؤس چلانے دیں۔جو میرا کام ہے وہ مجھے کرنے دیں۔ 

کرنل ر شعیب

کرنل شعیب نے الزام لگایا کہ سنیئر وزیر سال کے بعد اس ایوان میں آرہی ہیں۔ اس وقت پاکستان کا پچیس ملین بچہ سکول سے باہر ہے۔کیا ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے یا فلم انڈسٹری پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں اپنی روڈز اور کسانوں کی بات کرنی چاہیے یا فلم انڈسٹری پر توجہ دینی چاہیے۔

مریم اورنگزیب نے بار بار غیر متعلقہ الزامات لگائے جانے پر اپنی نشست سے اٹھ کر کہا،  سپیکر صاحب مجھے بھی اجازت دیں اگر بل کے علاوہ یہ بولے گے تو میرا استحقاق ہے میں بھی بولوں۔

سپیکر نے کہا، کرنل صاحب بل کے اوپر بات کریں بات لمبی ہوجائے گی بل درمیان میں رہ جائے گا۔ آپ بل کے مدرجات کی کمی بیشی پر بات کریں حکومت کی کارکردگی کو اس میں نہ لائیں۔

اپوزیشن رکن کرنل ر شعیب نے کہا،  جناب سپیکر پہلے یونیورسٹی کالجز میں ایجوکیشن دیں۔  فلمیں بنانے کا ان کو ہمیشہ سے شوق ہے۔ وزیر اعلی پنجاب کہتی ہیں فلمیں ہی آتی رہیں گی۔  پچھتر سالوں میں فلم انڈسٹری کو کس نے تباہ کیا۔ 

سردار محمد علی خان 

 یہ اتنا اہم بل ہے لیکن دو دن پہلے ہمارے سامنے آیا۔

میں درمیان میں بیٹھا ہوا تھا لیکن اتنی ایمرجنسی کی ضرورت کیا ہے۔

یہان سے تمام فنکار ہجرت کرکے کراچی جارہے تھے۔

آپ کو پتہ لگا کہ فنکاروں کا چہرہ مسخ ہوجائے گا ۔

جناب سپیکر ہمیں ٹائم دیتے۔

بڑے بڑے فنکار کھانے پینے کے محتاج تھے۔

سنیئر وزیر بیٹھی ہیں۔ ہم ان کو ڈیفیکٹو وزیر اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ہم اس پر ساتھ ہیں۔ہم فنکاروں کے پاس جانے کے لئے تیار ہیں ۔ہم چاہتے ہیں اس میں فنکاروں کا ان پٹ شامل کریں۔  فنکاروں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیا بل آرہا ہے ۔ہم اپنی قیادت کو بھی اعتماد میں لیں گے۔  آپ کے پروڈیوسر ڈائریکٹر موسیقار مررہا ہے۔

 عظمی بخاری

وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا، اپوزیشن کے پاس انفارمیشن کی کمی ہے۔ 

ہم نے  ہر سال ویلیفیئر فنڈ میں سو فیصد اضافہ کیا۔

ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ فنکاروں کو سپورٹ کریں، فلمیں بنیں گی تب ہی تو کام ملے گا۔   پینتیس فلمیں پنجاب میں بن رہی ہیں۔ سٹینڈ نگ کمیٹی نے مختلف ورکنگ گروپس بنائے ہیں۔ ر پچھلے بل کی بھی انھوں نے مخالفت کی تھی۔  ہماری حکومت مین پی ٹی آئی کے دور کی طرح سٹیج س ڈرامے چلانے والوں سے منتھلی نہیں لی جاتی۔

 مریم اورنگزیب کی ایوان میں مزید گفتگو

 سینئیر وزیر مریم اورنگ زیب نے بتایا کہ لیہ میں میڈیکل کالج بن رہا ہے۔

چار گرلز کالجز میں پنک بسیں چل رہی ہیں۔

سکول میل روگرام میں تیرہ لاکھ بچوں کو دیا جارہا ہے۔

میں آج فلم سٹی اتھارٹی ایکٹ کے لئے ایوان میں آئی ہوں۔

یہ بل پورے قوانین اور ضوابط سے گزر کر ایوان میں آیا ہے۔

سردار محمد علی نے جو بات کی ہے میں اس کو سپورٹ کرتی ہوں۔

 فرسودہ اور مری ہوئی انڈسٹری کو زندہ کیا جارہا ہے۔