مریم نواز کسانوں کیلئے مسیحا بن کر آئی

تحریر:سیف اعوان

Apr 29, 2026 | 14:20:PM
مریم نواز کسانوں کیلئے مسیحا بن کر آئی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے یہ جملہ ایک مدت سے ہم سنتے آ رہے ہیں۔ ماضی میں بہت ساری حکومتوں نے زراعت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کرنے کے دعوے کیے لیکن کسان کے مسائل جوں کے توں ہی رہے۔ جیسے ہی مریم نواز نے پنجاب کی بھاگ دوڑ سنبھالی تو کسان کی سات دہائیوں کی محرومیاں صرف دو سال کے عرصے میں دور کر دی۔ کسانوں کے جتنے بھی جائز مطالبات اور گلے شکوے تھے مریم نواز نے ان کو صرف یقین دہانیاں نہیں کروائی بلکہ حقیقت میں کسان کو ریلیف دے کر ثابت کیا کہ وہ کسان کو واقع ہی پاکستان کی ریڈھ کی ہڈی سمجھتی ہیں۔

 مریم نواز نے سب سے پہلے کسان کارڈ متعارف کروایا جس سے کسانو ں کو صوبے بھر میں اربوں روپے ریلیف فراہم کیا گیا۔پاکستان بننے کے بعد سے 2023 تک کسانوں کو ماضی کی حکومتوں نے 20 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جن میں بڑی تعداد مسلم لیگ نون کے ہی دور حکومت کی ہے۔ مریم نواز نے صرف دو سال کے عرصے میں کسانوں کو 21 ہزار گرین ٹریکٹر فراہم کر دیے ہیں جبکہ گرین ٹریکٹر سکیم کی تقسیم کا تیسرا فیز شروع ہو چکا ہے جس میں مزید 10 ہزار ٹریکٹر کسانوں کو دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ہزار سپر سیڈر کسانوں کو فراہم کیے گئے ہیں اور 8 ہزار ٹیوب ویل کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی کامیابی سے جاری ہے۔گزشتہ دنوں مریم نواز نے ایک اور زبردست منصوبہ متعارف کروایا ”اپنا کھیت اپنا روزگار سکیم“کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔

 دو ماہ قبل مریم نواز نے الیکٹرک بسوں کی ایک تقریب کے دوران اعلان کیا تھا کہ ہم جلد ایسے افراد کو مفت زرعی اراضی فراہم کرنے جا رہے ہیں جن کے پاس کاشتکاری کے لیے زمین نہیں ہے۔اس کا باقاعدہ اب آغاز ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بے زمین دیہاتیوں کو پنجاب حکومت تقریبا 160 ارب روپے مالیت کی اراضی تقسیم کرے گی۔پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس منصوبے سے براہ راست 88780 خاندان مستفید ہوں گے جبکہ چولستان میں اس منصوبے سے ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔

 پنجاب کے مختلف اضلاع میں 13812 لاٹ فرام کی جائیں گی اور چولستان میں 16ہزار 685 لاٹ تقسیم کی جائیں گی۔ مریم نواز صرف زمین ہی تقسیم نہیں کر رہی بلکہ ہر امیدوار کو فی ایکڑ 50 ہزار سے ڈھائی لاکھ روپے تک کی آباد کاری ون ٹائم گرانٹ دی جائے گی۔ اس منصوبے میں صرف ایک ہی شرط رکھی گئی ہے کہ جو زمین دی جائے گی اس پر صرف کاشتکاری ہوگی اور کسی قسم کی پختہ تعمیرات کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ زمین دس سال کے لیے کاشتکاری کے خواہشمند افراد کو فراہم کی جائے گی۔ یقینا پنجاب حکومت کا یہ منصوبہ زرعی شعبے میں ایک بڑا انقلاب لائے گا کیونکہ پنجاب میں ایک بڑا رقبہ ایسا ہے کہ جو عرصہ دراز سے بنجر اور بیابان پڑا ہوا ہے جس کی طرف ماضی میں کسی حکومت نے توجہ نہیں دی۔غیر آباد زمین کو آباد کرنے سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے وہ بھی اپنی فصل اور زمین کے مالک بن سکیں گے گو کہ یہ ملکیت صرف 10 سال کے لیے ہوگی لیکن وہ کم از کم اس زمین کے دس سال کے لیے مالک تو ہوں گے اور اس کو آباد بھی کریں گے۔پنجاب حکومت صرف زمین فراہم نہیں کر رہی وہ پانی کی دستیابی کے عمل کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔

مریم نواز کے جتنے بھی منصوبے اٹھا کر دیکھ لیں ان سب میں عام آدمی کو ریلیف ملتا ہوا نظر آئے گا۔ حکومتیں صرف ریلیف دینے کے اعلانات کرتی ہے حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے یہاں ایک عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ عام آدمی کے صرف جذبات سے کھیلا جاتا ہے لیکن مریم نواز ان مثالوں کی سختی سے نفی کرتی ہیں وہ اس سب کے برعکس جاتے ہوئے لوگوں کو آؤٹ آف دی وے جا کر ریلیف فراہم کر رہی ہیں۔ اسی لیے آج باقی صوبوں کے لوگ بھی اس خواہش کا برملا اظہار کر رہے ہیں کاش ہماری وزیر اعلی بھی مریم نواز ہوتی۔ جب آپ اپنے لوگوں کی خلوص نیت کے ساتھ خدمت کرتے ہیں تو لوگ بھی اس کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہیں۔

 آج پنجاب کے چپے چپے اور گلی گلی میں بلا تفریق ترقیاتی کام ہو رہے ہیں کسی بھی شہر میں سڑک یا گلی بنانے سے پہلے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ کسی سیاسی مخالف کا علاقہ ہے یا اپنے حمایتیوں کا علاقہ ہے۔ مریم نواز کی نظر میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ یہی چیز مریم نوازکو باقی سیاست دانوں سے منفرد بناتی ہے۔ مریم نواز پہ تنقید کرنے والے اور ان کا تمسخر اڑانے والے وہی لوگ ہیں جو باتیں ریاست مدینہ کی کرتے رہے اور حقیقت میں بھنگ پالیسی متعارف کرواتے رہے اور کبھی انڈے کٹے مرغیوں سے معیشت میں انقلاب لاتے رہے۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر