حافظ نعیم الرحمن کی جے یو آئی ف سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عثمان خان)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال اور دیگر اہم قومی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا, ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے اور کشمیر کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 80 برس سے پاکستان ایک واضح مؤقف پر قائم ہے، تاہم حکومت نے نا عاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سب سے پہلے مشعل ملک نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے اپنی پوری زندگی کشمیر کی آزادی کے لیے وقف کی اور کشمیریوں نے ہمیشہ اپنی تحریک پاکستان کے پرچم تلے چلائی، حتیٰ کہ ان کے جنازے بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کشمیر کی قیادت کا ایک بڑا وفد ان سے ملا تھا، جس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا خط بھی پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تعاون پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ وقت مانگا تھا اور دھرنا ملتوی کرنے کا مشورہ بھی دیا، تاہم دھرنا برقرار رہا، البتہ اس کے بعد کوئی مزید قدم نہیں اٹھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وہ قومی اسمبلی میں بھی بات کر چکے ہیں، جبکہ حکومت بھی اس وقت مشاورت کر رہی ہے، اس لیے اس کے مؤقف کا انتظار کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں تو پھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کی وجہ بھی واضح کی جائے تاکہ تمام فریق اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ معاملات کو جذبات یا طاقت کے استعمال کے بجائے عقل، دانش اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر وہ حکومت کے ساتھ بات چیت اور ہر ممکن مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :پنجاب اسمبلی میں آج بھی اپوزیشن کا ہنگامہ، احسن رضا کے خلاف تقریریں