قصورمیں معصوم بچی کیساتھ نازیبا حرکت اورپولیس کاکردار!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(سجاد اظہرپیرزادہ) بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کےایک کےبعد ایک واقعات ملک بھرمیں جنوری سے جون تک کتنے بچےاغواہوئے؟ پریشان کن انکشافات اوروہ بچےجو لاپتہ ہوگئے،ان کی تعدادکتنی ہے؟
27جولائی کوایک خبرموصول ہوئی کہ قصور میں ایک بچی کیساتھ ایک شخص نے نازیباحرکت کی ہے، پھر اِس خبر کاویڈیوثبوت بھی مجھ تک پہنچ گیا،اسے شیئرکیاتو یہ اُڑتی اُڑتی اُس گھرکی دیوار پر بیٹھ گئی جسےعام طور پر انصاف کا گھرکہاجاتاہے،یعنی وزیراعلٰی ہاؤس اور پھربالآخر وہی ہوا جو عام طورپرہمارےہاں ہواکرتاہے کہ "پولیس حرکت میں آگئی"۔
چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کےمطابق وزیراعلی مریم نواز نے واقعہ کا سخت نوٹس لیا تھا،شہری سوال کرتے ہیں کہ نہ جانے حکام بالا کے ایکشن پر ہی مقامی پولیس حرکت میں کیوں آتی ہے؟کیاپنجاب پولیس بےبال و پر ہے؟یااسےفوری انصاف کیلئےکسی حکم کی ضرورت ہوتی ہے؟
قصورکے ڈی پی او عیسیٰ خان ہیں، بتایاگیاہے کہ وہ معصوم بچی کے گھر پہنچے،واقعہ کی تفصیلات معلوم کیں،ملزم پکڑا گیااورایف آئی آر درج کرلی گئی ہے،ویڈیو کے مطابق اِس شخص نے اُس بچی کیساتھ نازیباحرکت کی تھی جوقصور کی ایک گلی میں کھیل رہی تھی۔
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ملک بھرمیں جنوری سے جون تک کتنے بچےاغواہوئے؟اوروہ بچےجو لاپتہ ہوگئے،ان کی تعدادکتنی ہے؟ملک میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں پریشان کن انکشافات کیے گئے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق 2025ء کے پہلے 6 مہینوں میں 950 بچوں کےساتھ جنسی استحصال ، 605 بچوں کے اغوا کےمقدمات درج ہوئے، اس سال 34 کم عمر بچوں کی شادیوں یا ونی کے مقدمات رپورٹ کیےجاچکےہیں،62 ایسےمقدمات رپورٹ ہوئے جن میں نومولود بچوں کومختلف مقامات پر مردہ یا زندہ پایا گیا،ان کیسز میں 1019 یعنی 52 فیصد متاثرہ لڑکیاں اور875 یعنی 44 فیصد لڑکے تھے، 3 فیصد کیسز نئے پیدا ہونے والے بچوں کےمتعلق ہیں،ڈی پی او قصور عیسیٰ خان کےپاس موقع ہے کہ وہ پکڑے جانے والےملزم جس کیخلاف ویڈیوثبوت موجودہے، سخت ایکشن لےکر،اسےدرندہ صفتوں کیلئےعبرت کی مثال بنادیں! اورجو بھی تفتیشی اس کیس میں ملزم کو ریلیف دینےکیلئے"روایتی کردارـ"اداکرنےکی کوشش کرے،اُسے دبنگ ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ عبادت نثار کی طرح پہلے سب انسپکٹر سے اے ایس آئی،پھراے ایس آئی سے ہیڈ کانسٹیبل اور پھر کانسٹیبل سےڈسمس کرکےاعلٰی کارکردگی کی وہ مثال قائم کریں، اپنا بھرم کھوتے جاتے ہمارے معاشرے کو جس کی آج بہت ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دیامر سیلاب میں فیملی سمیت لاپتہ ہونیوالی نجی ٹی وی اینکر کی گاڑی مل گئی