آئی سی سی کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بڑی تبدیلی پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو مزید مؤثر اور دلچسپ بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور شروع کردیا۔
آئی سی سی نے اس مقصد کے لیےایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے جس کی سربراہی نیوزی لینڈ کے سابق بیٹر راجر ٹووز کر رہے ہیں،یہ گروپ مستقبل کے بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر کا جائزہ لے رہا ہے جس میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ڈھانچہ اور مستقبل بھی شامل ہے۔
گروپ نے رواں ماہ دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کیں، تاہم حتمی فیصلوں کی توقع مارچ سے قبل نہیں کی جا رہی۔
اب تک ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں نو ٹیمیں ایک ہی لیگ میں حصہ لیتی رہی ہیں جس میں ہر ٹیم چھ سیریز کے دوران کم از کم 12 میچ کھیلتی ہے جس کے بعد پوائنٹس ٹیبل کا تعین جیت کےفیصدکی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رچرڈ تھامپسن نے رواں سال ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ یہ بات پوری طرح سمجھ لی گئی ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اس طرح کام نہیں کر رہا جیسے اسے کرنا چاہیے، اور ہمیں ایک زیادہ منصفانہ اور بہتر مقابلہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کو دو ڈویژنز یا درجوں میں تقسیم کرنے کا جو خیال کئی برسوں سے وقتاً فوقتاً زیرِ بحث آتا رہا ہے، اب اسے مؤثر طور پر ختم کر دیا گیا ہے،اس تجویز کو مسترد کرنے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر چھوٹی ٹیمیں دوسری ڈویژن میں چلی گئیں تو ان کی مالی حالت مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ اگر انگلینڈ، آسٹریلیا یا بھارت جیسی بڑی ٹیموں میں سے کوئی تنزلی کا شکار ہو جاتی تو ان کے درمیان ہونے والی مقبول اور منافع بخش ٹیسٹ سیریز متاثر ہو جاتیں،خاص طور پر انگلینڈ اور آسٹریلیا کی مالی مضبوطی کا زیادہ تر دارومدار ان ہی بڑی ٹیسٹ سیریز کے نشریاتی معاہدوں پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کاحکم
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کو 12 ٹیموں کی لیگ میں تبدیل کر دیا جائے گا، جس میں آئی سی سی کے تمام فل ممبرز شامل ہوں گے یعنی موجودہ نو ٹیموں کے ساتھ آئرلینڈ، افغانستان اور زمبابوے کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ مقابلہ ایک جامع اور مکمل عالمی لیگ کی شکل اختیار کر سکے،ہر ٹیم کو دو سالہ سائیکل میں کم از کم 12 ٹیسٹ میچ کھیلنے کی شرط برقرار رہے گی، تاہم سیریز کی مدت میں لچک دی جائے گی۔
یاد رہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اس وقت اپنے چوتھے سائیکل میں داخل ہو چکی ہے۔