148 سالہ ٹیسٹ کرکٹ تاریخ میں بھارتی ٹیم نے ناپسندیدہ ریکارڈ اپنےنام کرلیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 7 سنچریاں بنیں۔ 5 سنچریاں بھارتی بلے بازوں نے بنائیں جبکہ انگلینڈ کے دو بلے بازوں بھی 100 رن کا ہندسہ عبور کیا۔ یہ ٹیسٹ تاریخ میں پہلا موقع تھا جب بھارتی ٹیم کے 5 بلےبازوں نے سنچریاں بنائیں، لیکن اس کے باوجود بھارت ٹیسٹ میچ ہار گیا۔ شکست کے بعد بھارتی ٹیم نےایک ناپسندیدہ ریکارڈ اپنےنام کیا۔ بھارت نے148 سالہ ٹیسٹ تاریخ میں پہلی ٹیم بن گئی ہے جس کے 5 بلے بازوں نے سنچریاں کیں اور اس کے باوجود وہ میچ ہار گئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹیم کی جانب سے پہلے ٹیسٹ میں پہلی سنچری یشسوی جیسوال نے بنائی۔ انہوں نے 159 گیندوں پر 101 رن کی باری کھیلی۔ یشسوی کی اننگز میں 16 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا، لیڈز ٹیسٹ میں دوسری سینچری کپتان شبھمن گل نے بنائی۔ انہوں نے 227 گیندوں پر 147 رن بنائے۔ گل نے اپنی باری میں 19 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔انڈیا کی جانب سے پہلی باری میں تیسری سنچری رشبھ پنت نے لگائی اور 178 گیندوں پر 134 رن بنائے۔ انہوں نے اس اننگز میں 6 چھکے اور 12 چوکے لگائے۔بھارت کے لیے میچ کی چوتھی سنچری کے ایل راہل نے بنائی۔ انہوں نے یہ سنچری دوسری باری میں بنائی۔ کے ایل راہل نے 247 گیندوں پر 137 رن کی اننگز کھیلی، جس میں 18 چوکے شامل تھے۔ پانچویں سنچری رشبھ پنت نے بنائی۔ انہوں نے دوسری باری میں 140 گیندوں پر 118 رن بنائے۔ اس کے ساتھ ہی رشبھ پنت بھارت کے پہلے اور دنیا کے دوسرے وکٹ کیپر بیٹسمین بن گئے جنہوں نے ٹیسٹ میچ کی دونوں باری میں سنچری اسکور کی ہے۔انڈیا نے ان سنچریوں کی بدولت پہلی باری میں 471 رنز بنائے۔ اس کے بعد دوسری باری میں بھی 164 رن بنائے۔ پہلی اننگز میں 465 رن بنانے والی انگلینڈ کو جیت کے لیے 371 رن کا ہدف ملا۔ اس نے یہ ہدف 82 اوورز میں 5 وکٹیں گنوانے کے بعد حاصل کر لیا۔انگلینڈ کی جیت کے ہیرو بین ڈکٹ رہے۔ بائیں ہاتھ کے اس اوپنر نے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں 170 گیندوں پر 149 رن کی شاندار اننگز کھیلی۔ ڈکٹ نے اپنی اننگز میں 21 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ بین ڈکیٹ کو اس پرفارمنس پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے نئےقوانین لاگو کردیئے،پلیئنگ کنڈیشنز میں کئی تبدیلیاں