پاکستان افغانستان کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا تشویشناک ہے: جماعت اسلامی

Feb 27, 2026 | 10:51:AM
پاکستان افغانستان کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا تشویشناک ہے: جماعت اسلامی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پاک افغان کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی ممالک سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔

 دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان ایسی صورتحال دونوں اطراف کے عوام کیلئے تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔

 پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کر رہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے، جو عالم اسلام کیلئے خطرناک ہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: فیصل راٹھور

ان کا کہنا تھا کہ افغان قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہو سکتا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

 امریکہ ایران کے خلاف کارروائی کیلئے جواز تلاش کر رہا ہے اور غزہ میں ہونے والے واقعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسا کوئی راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے الگ تھلگ ہو جائیں اور مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علماء آگے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں۔

 چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب سے بھی اپیل ہے کہ وہ ماضی کی طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں اور اس موقع پر دوبارہ فعال کردار ادا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاک سعودی عرب دفاعی تعاون بعض قوتوں کیلئے ناقابل قبول ہے اور عالم اسلام کے اتحاد کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہے۔