قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کےاجلاس میں کرمنل لاء امڈینڈمنٹ بل متفقہ طور پر مسترد

May 26, 2025 | 19:48:PM
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کےاجلاس میں کرمنل لاء امڈینڈمنٹ بل متفقہ طور پر مسترد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس راجہ خرم شہزاد کی زیر صدارت ہوا۔کمیٹی میں بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیے لائے گئے بل پر بحث ہوئی، قائمہ کمیٹی نے حکومت کا تجویز کردہ کرمنل لاء امڈینڈمنٹ بل متفقہ طور پر مسترد کردیا۔ 

تفصیلات کے مطابق  راجہ خرم شہزاد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس  ہوا، جس میں  وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری  اور کمیٹی کے ارکان زرتاج گل، جمیشید دستی ، قادر پٹیل اور قادر مندوخیل سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اس موقع پر چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے سڑکیں اکھاڑ رہا یے اور بنا نہیں رہا،میں تو کل بھی تھا اپنے حلقے میں مجھے تو کوئی کام شروع ہوا نظر نہیں آیا۔ جس پر  چئیرمین سی ڈی اے نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کام شروع ہو گیا اور جلد مکمل بھی کر لیا جائے گا۔زرتاج گل نے کہا کہ اسلام آباد میں بیوٹیفکیشن کے نام پر مرغیاں بنائی جا رہی ہیں،5،5 ہزار درختوں کو کاٹ کر بوڑھے درخت لگائے جو سوکھ گئے،کیا اسلام آباد میں چلنے والے پراجیکٹس پی سی ون منظور شدہ ہیں؟۔ اس پر چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد میں جو پراجیکٹس ہم کرتے ہیں وہ سی ڈی اے کا اپنا بجٹ ہوتا ہے۔جمشید دستی میں گفتگو  میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہمیں نے آج تک کسی سیکرٹری پاور کو فیلڈ میں نہیں دیکھا،اس ادارے کے تو ایس ڈی او بھی فیلڈ میں جانا پسند نہیں کرتے،جون میں یہ اپنی کرسی بچانے کے لیے اندادھند پرچے کرواتے ہیں،ہم اس قانون کو اندھا بن کر پاس کر دیں اللہ کو کیا جواب دینا ہے،جنوبی پنجاب میں کمزور افراد پر روزانہ جعلی مقدمات کا اندراج ہوتا ہے۔اس موقع پر چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہآج ممبران اس بل کو یا پاس کریں یا مسترد کریں،ایک سال سے ہم وہی سوالات بار بار دہرا رہے ہیں،اگر کوئی بندہ اس گھر میں نہیں رہ رہا تو اس کے خلاف کیسے اندراج مقدمہ ہوگا؟،

قائمہ کمیٹی میں بجلی کی چوری کی روک تھام کے لیے لایا گیا بل زیر بحث لایا گیا۔کمیٹی کے رکن قادر پٹیل کا کہنا تھا کہ بل کو پاس کرنے سے پہلے معاملات بہتر کریں، ہم اس بل کو بغیر اصلاحات کے منظور نہیں کرسکتے ۔ کوئی سسٹم نہیں ہے، کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔نبیل گبول نے کہاکہ کراچی میں 18 ، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ، بجلی 2 بندے چوری کرتے ہیں لیکن کے الیکٹرک اس پورے علاقے کی بجلی کاٹ دیتا ہے۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری  نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی چوری ہورہی ہے اس میں کوئی شک نہیں ، ہم نے چوری کو روکنا ہے۔ طلال چوہدری کے جواب پر قادر مندو خیل ، قادر پٹیل اور ، زرتاج گل کا کہنا تھاکہ کیا ہم اس بل کو آنکھیں بند کر کہ پاس کردیں ؟؟ ،ہم کسی صورت اس کو پاس نہیں کریں گے ، ہم کسی کو ہتھکڑی نہیں لگنے دیں گے، پاکستان تحریک انصاف اس ظالمانہ بل کی مخالفت کرتے ہیں بلا وجہ عوام کو ہتھکڑیاں نہ لگائی جائیں ۔ اس پر  وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری  نے کہا اس پر پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔جمشید دستی نے طلال چوہدری کو جواب دتیے ہوئے کہا کہ آپ ایسے جملے نہ کہیں،اب تک کتنی ایف آئی آرز کاٹی گئی ہیں؟؟ ۔ڈاکٹر نثار جٹ کا کہنا تھا کہ ڈسکوز کو تحفظ دینے کے لیے عوام کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے،  نبیل گبول نے کہا کہ میں اس سے براہِ راست متاثر ہوں، میرے حلقے میں ایک بلڈنگ پر ریڈ ہوا ، چوکیدار 4 مہینے جیل میں رہا اور ہارٹ اٹیک سے مر گیا ، ایک تو ہم عوام کو بجلی نہیں دے رہے اور دوسرا ہم ان پر چھاپے بھی ڈلوائیں؟ایسا کوئی بل بھی کوئی عوامی نمائندہ منظور نہیں کرے گا۔ نمائندہ وزارت قانون کا کہنا تھا کہ یہ قانون پہلے سے ہی موجود ہے اس کے تحت کاروائیاں بھی جاری ہیں، ہم اس قانون کو مزید سخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سپیشل سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ بجلی کی چوری روکنے کے لیے ایسے قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے، بل بجلی چوری پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوگا، اگر ایس ڈی او خود بھی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی کاروائی ہوگی۔کمیٹی کی جانب سے کوڈ آف کریمنل پرسیجر ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔پی ٹی آئی کی جانب سے ترمیمی بل کی مخالفت کر دی گئی۔قومی اسمبلی کمیٹی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حکومت کا تجویز کردہ کرمنل لاء امڈینڈمنٹ بل متفقہ طور پر مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم کا ایران پہنچنے پر پرتپاک استقبال،ایرانی صدر کے استقبالیہ میں آرمی چیف کے ہمراہ شرکت