وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےگڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کاافتتاح کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک رحمان)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کا افتتاح کر دیا،نئے گورننس روڈ میپ میں 10 نئے محکمے اور 88 اقدامات شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ گڈ گورننس روڈ میپ میں مجموعی اقدامات کی تعداد 362 سے بڑھا کر 450 کر دی گئی ہے،گڈ گورننس روڈ میپ کی از خود نگرانی کی جا رہی ہے،عوامی خدمات میں تاخیر کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے سیاحتی سیزن کے تناظر میں سیاحوں کے لیے خوشگوار، محفوظ ماحول اور مؤثر رہنمائی یقینی بنانے،سیاحتی مقامات کی فوری فیس لفٹنگ اور سہولیات میں بہتری کے لیے اقدامات تیز کرنے ،نتھیاگلی روڈ کے پی سی ون پر کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت ای چالان سسٹم متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے، ای چلان سے گاڑیوں کی خرید و فروخت میں فوری ٹرانسفر ممکن ہوگی،ای چالان سسٹم سمیت حکومت کے تمام اصلاحات کے بارے عوامی آگاہی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نےمحکمہ جنگلات کو 23 مارچ کو 10 لاکھ پودے لگانے کی کامیاب مہم پر مبارکبادیتے ہوئےکہاکہ لگائے گئے پودوں کی حفاظت اور نگہداشت یقینی بنائی جائے،ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے،جنگلات کے رقبے میں اضافہ حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیر اعلی نے سرکلر ریلوے منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر شروع کرنے ،ضلع خیبر اور مردان تک ریلوے توسیع کے منصوبے پر ابتدائی کام آئندہ بجٹ سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گڈ گورننس روڈ میپ 2.0 کے نئے اقدامات سے سروس ڈیلیوری اور گورننس میں بڑی بہتری آئے گی،ای پینشن سسٹم کے ذریعے ریٹائرڈ ملازمین کو سہل اور تیز خدمات فراہم ہوں گی،بورڈ آف ریونیو میں لینڈ ریکارڈ سروسز کو موبائل یونٹس کے ذریعے عوام کی دہلیز تک پہنچا جائے گا،ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم نادرا کے ساتھ انضمام کے ذریعے شفافیت اور کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا،ٹریفک مینجمنٹ کے لیے کیمرہ بیسڈ انفورسمنٹ سسٹم متعارف کرانے سے سڑکوں پر قوانین کی عملداری بہتر ہوگی،بریفنگ میں کہا گیا کہ سکول زون سیفٹی پیکیج متعارف، بچوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنایا جائے گا،سموگ مانیٹرنگ اور کلائمیٹ آبزرویٹریز کے قیام سے فضائی معیار کی نگرانی ممکن ہوگی،زہریلے فضلے اور ویسٹ واٹر مانیٹرنگ سسٹم سے ماحولیاتی خطرات میں کمی لائی جائے گی،بلین ٹری پلس پروگرام کے تحت شجرکاری مہم کو مزید وسعت دی جائے گی،ڈرائیونگ لائسنسز کی ڈیجیٹلائزیشن سے شہریوں کو تیز اور شفاف سہولیات فراہم ہوں گی،پبلک پرائیوٹ پارٹننرشپ(پی پی پی)ماڈل کے تحت انٹر سٹی ٹرانسپورٹ سسٹم متعارف،اضلاع کے درمیان رابطہ بہتر ہوگا،اس کے علاوہ جیلوں میں ٹیلی میڈیسن اور ہیلتھ اسکریننگ سہولیات متعارف کرائی جائیں گی۔
نوعمر قیدیوں کی بحالی کے لیے ہنر مندی پروگرامز متعارف کرانے جبکہ ورکنگ ویمن کے لیے میٹرنٹی بینیفٹس کے نفاذ سے مالی تحفظ یقینی بنایا جائے گا،ایمرجنسی صورتحال کے لیے ارلی وارننگ سسٹم متعارف کرنے سے جانی و مالی نقصان میں کمی ممکن ہوگی،ایمبولینس اور ریسکیو گاڑیوں میں جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم نصب کرنے سی شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔
گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت جاری اصلاحات پر بھی بریفننگ میں کہا گیا کہ 16 محکموں میں 320 اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد جاری ہے، اب تک 440 سے زائد ہفتہ وار،70 سے زائد ماہانہ اور 5 سہ ماہی جائزہ اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔
مختلف محکموں میں 2200 سے زائد ایکشن سٹیپس تیار کیے گئے ہیں تاکہ اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے،صحت کے شعبے میں 150 بی ایچ یوز 24 گھنٹے فعال ہو چکے ہیں جبکہ باقی جون 2026 تک فعال کیے جائیں گے،بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کے لیے 700 ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے ہیں جبکہ 2400 میڈیکل آفیسرز کی منظوری دی گئی ہے،پولیو مہم 45 اضافی یونین کونسلز تک توسیع دی گئی ہے اور بند علاقوں تک رسائی بحال کی گئی ہے،60 سے زائد ہسپتالوں میں 150 ویکسینیٹرز تعینات کیے گئے ہیں اور شام کی شفٹ میں ویکسینیشن سروسز میں توسیع کی گئی ہے۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ بلدیاتی شعبے میں 2500 کلومیٹر نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی مکمل کی گئی ہے،دیہی سطح پر ویسٹ کلیکشن سسٹم فعال ہے اور ماہانہ 4500 ٹن کچرا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی شعبے میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو فرنیچر فراہم کیا گیا جبکہ 3500 طلبہ کو وظائف فراہم کی گئی ہیں،زراعت کے شعبے میں ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو پیداواری اقسام میں تبدیل کیا گیا،سماجی بہبود کے تحت 3 ہزار سے زائد یتیم بچوں اور 3 ہزار سے زائد بیواؤں کو ماہانہ وظیفے سے مستفید ہورہے ہیں۔