بارش نہیں،بدترین گورننس،پورا نظام فیل!
تحریر: عدیل احمد
Stay tuned with 24 News HD Android App
ذرا سی بارش اور پھر کبھی لاہور ڈوب جاتا ہے تو کبھی راولپنڈی، کبھی گوجرانوالہ تو کبھی گجرات، کبھی کراچی کی سڑکیں پانی پانی ہو جاتی ہیں اور کبھی پشاور کے شہری مشکلات میں گھر جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہم کب تک یہی منظر دیکھتے رہیں گے؟ پاکستان کب تک بدترین گورننس کا شکار رہے گا؟ کیا چھوٹے انتظامی یونٹس اس بدترین گورننس کا اصل علاج ہیں؟
بارش تو دنیا کے ہر شہر میں ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ بارش کے پانی کو مسئلہ بننے سے پہلے حل کر لیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں پانی سڑکوں پر آنے کے بعد اجلاس، دورے، بیانات اور عارضی اقدامات شروع ہوتے ہیں، اصل مسئلہ صرف بارش نہیں
اصل مسئلہ بیڈ گورننس ہے ، غیر منصوبہ بند آبادی، نالوں پر تجاوزات، ناقص ڈرینج، کچرے سے بند راستے، بے ہنگم تعمیرات اور مختلف اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم ، یہ سب مل کر ایک عام بارش کو شہری بحران بنا دیتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کیا پاکستان جیسے ملک میں ایک صوبائی دارالحکومت سے لے کر ایک چھوٹے شہر تک، ہر مسئلے کا حل صوبائی سیکرٹریٹ میں بیٹھ کر ممکن ہے؟
یقیناً نہیں ، ہمیں چھوٹے، بااختیار اور جواب دہ انتظامی یونٹس کی طرف جانا ہو گا ، ایسا نظام جہاں شہر کا میئر یا مقامی حکومت اپنے علاقے کی سڑک، نالہ، سیوریج، کچرا، پارک اور بارشی پانی کی نکاسی کے لیے براہِ راست ذمہ دار ہو اور صرف ذمہ داری نہیں اختیار بھی ہو، بجٹ بھی ہو، عملہ بھی ہو، اور سب سے بڑھ کر عوام کے سامنے جواب دہی بھی ہو ، اگر لاہور میں بارش کا پانی نہیں نکلتا تو لاہور کی مقامی حکومت سے سوال ہو ، اگر گوجرانوالہ میں نکاسی آب ناکام ہے تو وہاں کے ذمہ دار ادارے سے سوال ہو۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ایسے شہری مسائل کے حل کے لیے ہماری گورننس کب بہتر ہوگی؟ کیونکہ بارش کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں لیکن بارش کے پانی کو شہر ڈبونے سے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور شاید پاکستان کو بڑے بڑے محکموں سے زیادہ، چھوٹی مگر بااختیار، مضبوط اور جواب دہ حکومتوں کی ضرورت ہے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر