جسمانی ریمانڈ ملتے ہی، انسانی اعضا کی سمگلنگ میں پکڑے گئے سمگلروں نے خوفناک انکشافات کر دیئے

Jun 26, 2026 | 23:41:PM
جسمانی ریمانڈ ملتے ہی، انسانی اعضا کی سمگلنگ میں پکڑے گئے سمگلروں نے خوفناک انکشافات کر دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) انسانی اعضا کی غیر قانونی حصول اور سمگلنگ کے کیس میں  مزید انکشافات ہوئے ہیں۔ پولیس نے آج ملزموں کا جسمانی ریمانڈ لینے کے بعد تفتیش کی تو کئی اہم حقائق سامنے آ گئے۔

انسانی اعضا کی سمگلنگ میں ملوث اسلام آباد سے گرفتار کئے گئے  ملزمان کنے جمسانی ریمانڈ کے بعد کی گئی تفتیش کے دوران اپنے سنگین جرائم کے متعلق  اہم انکشافات کئے ہیں۔  
اسلام آباد میں ایف آئی اے نے   بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی اعضا کیسمگلنگ میں ملوث 5 افراد کو گرفتار کیا تھا جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ 

اب  انسانی اعضا ، ٹشوز اور انسانی گوشت کی سمگلنگ کا سکینڈل بےنقاب ہوگیا ہے۔  ایف آئی اے کے عملے نے چھاپہ مار کر ایک  گھر سے انسانی اعضا برآمد کیے تھے۔

ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل اور ہوٹا نے اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف7 ون میں مشترکہ کارروائی کرکے  بھاری مقدار  میں انسانی اعضاء برآمد کرکے 5 ملزمان کو حراست میں لیا تھا۔

گرفتار ہونے والوں میں تین چینی باشندوں سمیت پانچ ملزمان شامل ہیں جن کیخلاف ہوٹا کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کیا، پولیس نے عدالت سے ملزمان کا چار دن کا جسمانی ریمانڈ  حاصل کرلیا۔

 ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے گرفتار چینی باشندوں کی لی گانگ، وانگ باؤ اور پینگ فی کے نام سے شناخت ہوئی ہے،  ان ملزموں میں دو پاکستان  وقاص اور قاسم حنیف بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایف 7 ون اور ای الیون میں قائم غیرقانونی مراکز پر چھاپے مار کر فریج اور کنٹینرز سے انسانی اعضا اور انسانی گوشت برآمد کیے تھے۔ یہاں سے تازہ اور خشک انسانی نال بھی برآمد ہوئی۔ ملزمان انسانی نال کو بھیڑ کی نال ظاہرکرکے بیرون ملک سمگل کرتے تھے۔ 

ایف آئی اے کے مطابق پوش علاقہ میں عام نظر آنے والی رہائش گاہوں کو انسانی اعضاء ذخیرہ  کرنے اور  پیک کرنے کی لیبارٹریوں میں تبدیل کیا گیا، پمز ہسپتال کے ماہرین نے برآمد  ہونے والی اشیاء کے انسانی اعضاء ہونے کی تصدیق کی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  ایف آئی اے نے انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت پکڑ لی،چینی باشندوں سمیت5افرادگرفتار 

پلیسینٹا کسے کہتے ہیں؟ 
واضح رہے کہ ’پلیسینٹا‘ حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والے عضو کو کہا جاتا ہے، اور یہ امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔

یہ پلیسینٹا مادر رحم میں بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔

بچے کی پیدائش کے بعد یہ  فالتو مواد کی حیثیت سے ماں کے جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اسے ادویات، کاسمیٹکس اور روایتی علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔

ملزمان مختلف ہسپتالوں سے  ان ہسپتالوں میں ماں بننے والی خواتین کے  پلیسینٹا غیر قانونی طریقہ سے خرید کر پراسیسنگ کرتے تھے، پلیسینٹا کو خشک کرکے بیرون ملک اسمگل کیا جاتا تھا۔

ابھی اس کیس میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  متحدہ عرب امارات میں شہریوں کو ڈیفینس وارننگ کے  غلط الرٹ مل گئے