اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(امانت گشکوری)سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز ٹرانسفر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،فیصلے میں جسٹس صلاح الدین پنہور کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد جج کو نئے جج کے طور پر نہیں لیا جا سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے تبادلوں کیخلاف درخواست واپس لی،ہائیکورٹ بار نے تسلیم کیا یہ مفاد عامہ کی خلاف ورزی نہیں،
سپریم کورٹ نے کہاکہ ٹرانسفر کے نوٹیفکیشن میں واضح نہیں تھا کہ تبادلہ عارضی ہے یا مستقل،نوٹیفکیشن میں وضاحت کیلئے معاملہ دوبارہ بھیجا کیا گیا،ججز تبادلوں پر مشاورت عدلیہ سے ہی کی جاتی ہے،تبادلوں سے عدلیہ کی آزادی متاثر نہیں ہوتی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ آرٹیکل 200 صدر مملکت کو ہائیکورٹ کے جج کا دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر کا اختیار دیتا ہے،جج ٹرانسفر کا اختیار اپنی نوعیت میں آزادانہ ہے،تاہم ٹرانسفر کیساتھ کچھ حفاظتی اقدامات اور ضمانتیں بھی شامل ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اختیارات آئین کے کسی اور آرٹیکل پر منحصر نہیں ہیں،ٹرانسفر کی بنیادی شرط متعلقہ جج کی رضامندی لینا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ دوسرا اہم پہلو مشاورت کا عمل ہے،مشاورت کے عمل میں صدر مملکت چیف جسٹس پاکستان اور دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شامل ہیں۔
جسٹس صلاح الدین پنہور کااضافی نوٹ
جسٹس صلاح الدین پنہور نے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ فیصلے سے متفق ہوں لیکن اپنی وجوہات الگ سے دینا چاہتا ہوں،ہائیکورٹس کے ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلہ آئینی طور پر درست ہے،ججز تبادلے میں رضامندی اور چیف جسٹسز سے مشاورت کی شرائط پوری کی گئیں،تبادلے عوامی مفاد میں کئے گئے کسی بیرونی دباؤ کا اثر نہیں،تبادلے عدلیہ کے وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہیں لسانی و علاقائی تنوع یقینی بناتے ہیں،علاقائی و لسانی تنوع عدلیہ پر عوامی اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہورنے اضافی نوٹ میں مزید کہا ہے کہ آرٹیکل 200 کے تحت تبادلہ نئی تقرری نہیں بلکہ عدالتی ڈھانچے میں نئی ذمہ داری ہے،دوسری ہائیکورٹ میں تبادلے پر جج کو نیا حلف اٹھانے کی ضرورت نہیں۔
جسٹس صلاح الدین پنہورنے تمام ججز کی سینیارٹی لسٹ تیار کرنے اور ہر سال نوٹیفائی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سینیارٹی لسٹ صرف اسلام آباد ہائیکورٹ میں تبادلوں کیلئے استعمال ہوگی،شفافیت،مساوات اور تسلسل کیلئے عدالتی اصلاحات ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کیخلاف قومی ٹیم کن کھلاڑیوں کیساتھ میدان میں اترے گی؟انتظامیہ کا بڑا فیصلہ