افغانستان دہشتگرد تنظیموں کی بڑی پناہ گاہ بن گیا ہے:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار و اینکرپرسن سلیم بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان کی افغانیوں کی منتقلی کے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئی ہیں، افغان حکومت کوئی تحریری معاہدہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری مذاکرات کے ذریعے اس مصیبت سے نبٹنے کی کوششیں ناکا م ہو گئی ہیں چاہے وہ ترکیہ میں مذاکرات ہوں یا دوحہ میں مذاکرات ہوں افغان حکومت زبانی سب کچھ ماننے کو تیار ہیں لیکن وہ کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کی کیا مجبوریاں ہیں اس کی سمجھ نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ کیا کابل حکومت فری ایجنٹ ہے کہ وہ فیصلہ کر سکے کہ انہوں نے اپنی سرذمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے۔تو اس کا جواب نفی میں ہے۔کیونکہ کابل حکومت اس وقت ایک پناہ گاہ ہے دنیا کی دہشتگرد تنظیموں کیلئے ۔داعش، ٹی ٹی پی اور نصف درجن سے زائد دہشتگرد تنظیمیں وہاں پر موجود ہیں جن کو اقوام متحدہ ، امریکہ اور یورپ نے دہشتگرد قرار دیا ہوا ہے۔ان تنظیموں کے ہوتے ہوئے نومولود کابل حکومت کے لیے ناممکن ہے کہ وہ کسی ایسی تنظیم کی پالیسیوں سے انکار کرسکیں۔اور وہ اسی وجہ سے کسی لکھے ہوئے معاہدے سے انکار ی ہیں۔
سلیم بخاری نے کہا کہ ضمنی انتخابی نتائج دو بڑی پارٹیوں کی خامیوں اور خوبیوں کے نتائج تھے۔پنجاب میں کام ہوا ہے اس کے معترف تو ن لیگ کے دشمن بھی ہیں مریم نواز نے شہباز شریف کی لگیسی کو اگے بڑھایا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے جبکہ تحریک انصاف نے ایک کے بعد دوسرے کئی غلط فیصلے کیے ہیں اگر تھوڑی سی تفصیل بیان کی جائے تو قومی اسمبلی تحلیل کر دی اور پھر پنجاب حکومت میں اپنی حکومت ختم کر دی اسی طرح سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینا بھی بہت بڑی حماقت تھی۔
اسرائیلی فوج کے بیروت میں فضائی حملے پر رائے دیتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ دو جنگ بندی معاہدے ہوئے ہیں، پہلی جنگ بندی ہوئی لبنان کے ساتھ طویل مذاکرات کے نتیجے میں جس میں یہ طے پایا تھا کہ لبنان کے سرحدی علاقوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوگی اور دوسری فلسطین کے ساتھ لیکن ان دونوں معاہدوں جو فریق ان خلاف ورزی کر رہا ہے، وہ اسرائیل ہے۔ چاہے وہ ایران کے اندر آکر اسماعیل ہانیہ کی شہادت ہو یا لبنان کے اند ر حزب اللہ کے سرکردہ رہنماوں کی شہادت ہو،اسرائیل اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا اور امریکہ صدر ٹرمپ سمیت کسی یورپی ملک اور کسی عالمی ادارے کی ہمت نہیں ہو رہی کہ وہ ان خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے مسلم اُمہ کو جھنجوڑتے ہوئے کہا کہ جب ہم کسی ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو وہ کیسے اپنے مظالم سے باز آئے۔ اسے اتنا فری لائسنس کیوں ملا ہوا ہے، عرب ممالک کیوں ان کے آگے بولیں گے بھی کیوں آپ شام کی ہی مثال لے لیں وہاں جس شخص کو صدر بنا دیا ہے جس کو چند ماہ پہلے تک امریکہ دہشت گرد قرار دیتا تھا اور اس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔جب عالمی سیاست میں اس قسم کا اکھار پچھاڑ ہوگا تو اسرائیل کو کیسے کوئی روک سکتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کے سات آٹھ مسلم ممالک ملکر اسرائیل کا مقابلہ کیوں نہیں کر سکتے ؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کر سکتے ہیں لیکن وہ ایسا کریں گے نہیں۔ کیوںکہ ہر کوئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صحیح تجزیہ کیا جائے تو 70 فیصد سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں غیر مقبول حکومتیں ہیں، وہ امریکہ اور یورپی ممالک کی ناراضگی مول لے ہی نہیں سکتیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایتھوپیا میں پھٹنے والے آتش فشاں کی راکھ پاکستان تک پہنچ گئی