گورنر سندھ کا فائر سیفٹی تربیتی پروگرام کا اعلان

Jan 25, 2026 | 11:47:AM
گورنر سندھ کا فائر سیفٹی تربیتی پروگرام کا اعلان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سانحہ گل پلازہ کے افسوسناک واقعے کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے فائر سیفٹی کے حوالے سے ایک اہم اور بروقت اقدام اٹھاتے ہوئے گورنر ہاؤس کراچی میں مفت فائر سیفٹی تربیتی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے، اس پروگرام کا مقصد شہریوں، دکانداروں، مارکیٹ ایسوسی ایشنز اور مختلف تجارتی و سماجی تنظیموں کو آگ سے بچاؤ، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور قیمتی جانوں و املاک کے تحفظ کے بارے میں عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کی کانووکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیاکہ کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں فائر سیفٹی سے متعلق آگاہی اور تربیت کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اکثر حادثات احتیاطی تدابیر نہ ہونے اور بنیادی تربیت کی کمی کے باعث بڑے سانحات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر سیفٹی سے متعلق یہ مفت تربیتی پروگرام گورنر ہاؤس میں باقاعدہ طور پر منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام مارکیٹ ایسوسی ایشنز، تاجر تنظیمیں، صنعتی ادارے اور دیگر متعلقہ تنظیمیں شرکت کر سکیں گی، جو بھی ادارے یا ایسوسی ایشنز اس تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ گورنر ہاؤس سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:سانحہ گل پلازہ: ریسکیو آپریشن نویں روز بھی جاری، مزید انسانی باقیات برآمد

کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ آگ لگنے کے واقعات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف جدید آلات بلکہ تربیت یافتہ افرادی قوت بھی ناگزیر ہے، صوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی اور اس سلسلے میں عوامی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات شہر کے مشہور ترین تجارتی مراکز میں سے ایک گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اس آتشزدگی کے نتیجے میں پلازہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا، خوش قسمتی سے واقعے میں قیمتی جانوں کا ضیاع نہیں ہوا، اس سانحے نے شہر میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سنگین سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں۔