مارکیٹ میں تہلکہ، ایرانی ریال کی قدر اچانک آسمان کو چھونے لگی،شہریوں کا کرنسی ایکسچینج سینٹرز پر ہجوم
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ان دنوں ایک غیر معمولی رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایرانی ریال کی طلب اچانک بڑھنے کے باعث اس کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ صورتحال ایران اور امریکا کے درمیان 60 روزہ مبینہ امن معاہدے سے متعلق خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق حالیہ پیش رفت کے بعد گزشتہ چند روز خصوصاً پانچ دن کے دوران، شہریوں کی بڑی تعداد نے ایرانی ریال خریدنے میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی ہے،اس بڑھتی ہوئی سرگرمی نے مارکیٹ کے رجحانات کو واضح طور پر متاثر کیا ہے۔
طلب میں تیزی آنے کے باعث اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر مسلسل اوپر جا رہی ہے اور اندازوں کے مطابق اس کی قیمت تقریباً 100 فیصد تک بڑھ چکی ہے یعنی اس کی مالیت تقریباً دو گنا ہو گئی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے چیئرمین ملک بوستان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کہا کہ نئی صورتحال کے بعد صرف 6 دنوں کے اندر پاکستانی شہریوں نے اوپن مارکیٹ سے تقریباً 3 ٹریلین (3 ہزار ارب) روپے سے زائد مالیت کی ایرانی کرنسی خرید لی،خریدنے والوں میں زیادہ تر حصہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں ہلچل،سونا سستا ہو گیا
ان کا کہنا تھا کہ اس غیر معمولی خریداری کے رجحان کے باعث اوپن مارکیٹ میں ریال کی قیمت میں واضح اضافہ ہوا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ ایک کروڑ ایرانی ریال جو پہلے تقریباً دو ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب تھے وہی اب تقریباً چار ہزار روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔
ملک بوستان کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں نے کرنسی مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے جس کے نتیجے میں ریال کی طلب میں مزید اضافہ ہوا ہے،انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ کرنسی کی خرید و فروخت ہمیشہ صرف لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ہی کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی یا غیر قانونی لین دین سے بچا جا سکے۔