”چقو ہے میرے پاس“:جمشیدانصار ی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں 

انکل عرفی،تنہائیاں،اَن کہی، جھروکے،دوسری عورت، زیر زبر پیش،منزلیں مشہور ڈراموں میں شامل ہیں

Aug 24, 2025 | 16:04:PM
”چقو ہے میرے پاس“:جمشیدانصار ی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) ٹیلی ویژن اور فلم کے وراسٹائل مزاحیہ اداکار جمشیدانصاری کو مداحوں سے بچھڑے20 برس بیت گئے مگر ان کی اداکاری اور ان کے مکالمے آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔
31دسمبر1942ء کوسہارنپور میں پیدا ہونے والے جمشیدانصاری چھ برس کی عمر میں والدین کے ساتھ کراچی آگئے تھے، گریجویشن کے بعدوہ لندن چلے گئے جہاں کچھ عرصہ”بی بی سی“میں کام کیااور ٹی وی پروڈکشن کے سرٹیفکیٹ کورس کیے۔
لندن میں قیام کے دوران ہی انہوں نے شوکت تھانوی کے لکھے ہوئے ڈرامے”سُنتا نہیں ہوں بات“پیش کیا,1968ء میں واپس پاکستان آکر پی ٹی وی پرکام شروع کیا اورکیریئر کا آغاز ڈرامہ”جھروکے“سے کیاجس میں لاجواب اداکاری پر مداحوں سے خوب داد سمیٹی۔
40 برسوں پر محیط فنّی کیریئرکے دوران انہوں نے تقریباً 200 سے زائد ڈراموں میں کام کیا،ان کے مشہور ڈراموں میں انکل عرفی،گھوڑا گھاس کھاتا ہے،تنہائیاں،اَن کہی، جھروکے،دوسری عورت، زیر زبر پیش،منزلیں، بے وفائی شامل ہیں۔


اپنی اداکاری پرانہوں نے دو درجن کے قریب قومی سطح کے ایوارڈز بھی حاصل کیے،ان کے کچھ مکالمے ”چقو ہے میرے پاس“،”زور کس پے ہوا“ اور”قطعی نہیں“ وغیرہ عام لوگوں میں بہت زیادہ مقبول ہوئے،ان کے شوخ اور مزاح سے بھرپور برجستہ جملے زبان زدعام ہوئے تھے،ٹی وی کے ساتھ ساتھ انہوں نے ریڈیو پر بھی کام کیا،مشہور اسٹیج ڈرامے”بکرا قسطوں پر“میں بھی جاندار کردار ادا کیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران اشرف کی پہلی بین الاقوامی پنجابی فلم’’اینانوں رہناسہنانئی آنداں‘‘ کارنگارنگ پریمیئر
مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے جمشید انصاری سر میں رسولی کی وجہ سے 24 اگست 2005 کو کراچی میں 63 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے لیکن وہ ڈراموں میں ادا کئے ہوئے کرداروں کے باعث آج بھی زندہ ہیں اور ان کے مداح انہیں یاد کرتے ہیں۔