دنیا میں فلسطین کے سب سے بڑے وکیل ذوالفقار علی بھٹو شہید
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)اکتوبر 1973 میں رمضان کے دن تھے، اسرائیل فلسطینیوں پر قہر ڈھارہا تھا، پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے غیرمعمولی فیصلہ کیا اور پاک فضائیہ کے 16 تربیت یافتہ پائلٹوں کو اسرائیل سے جنگ کے لئے روانہ کردیا-یہ مشن انتہائی خفیہ تھا، پائلٹوں کو بتادیا گیا تھا کہ اگر وہ شہید ہوگئے یا گرفتار ہوگئے تو پاکستانی حکومت ان کی ذمہ داری نہیں لے گی، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صدام حسین کو اعتماد میں لیا، حافظ الاسد کو بھی ذوالفقار علی بھٹو اپنا پورا منصوبہ سمجھاچکے تھے، پاکستانی پائلٹ پہلے خفیہ طریقے سے بغداد پہنچے، پھر انہیں انتہائی رازداری سے دمشق میں واقع دمیر نامی فوجی ہوائی اڈے منتقل کیا گیا، 16 میں سے آٹھ پاکستانی جانباز مصر روانہ ہوگئے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما اخوندزادہ چٹان کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر شئیر کی گئی پوسٹ کےمطابق شام کی فضائی فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے خفیہ مشن پر بھیجے گئے پاکستانی آرمی کے دستے کو 67 اے اسکواڈرن کی پہچان دی اور وزیراعظم پاکستان کے فیصلہ لینے کے ٹھیک 36ویں گھنٹے میں پاک فضائیہ کے پائلٹ پرانے روسی جہازوں مگ 21 ایف 13 کے کاک پٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔
دمشق شہر کو اسرائیل کے جدید میراج تھری اور ایف فور پینتھم جہازوں نے بمباری کرکے تباہ کردیا تھا، کسی بھی غیرمتوقع صورت حال سے نمٹنے کے لئے 32 جہازوں پر مشتمل اسرائیلی ہوائی دستہ طبریا جھیل اور بحرِمردار کے چکر کاٹ رہا تھا، پاکستانی پائلٹوں کے جہاز پرانے اور خستہ تھے، فیول کی گنجائش بھی صرف 30 منٹ کے لئے تھی، انٹیلی جنس معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں، بھارتیوں کو اس پیشرفت کا علم ہوگیا، بھارتی فوجی پاکستانی پائلٹوں کو گرانے کے لئے اسرائیلی فوج کے معاون بن گئے، صورت حال انتہائی کشیدہ ہوچکی تھی۔
ایسے ہی ایک دن پاکستانی طیارے نے دمشق کے فوجی ہوائی اڈے سے اڑان بھری اور طیارہ بھی کون سا؟ خستہ حال مگ 21 اور اس کو دو جدید اسرائیلی میراج طیاروں نے گھیرلیا، شام کی فضاؤں میں ایک خوف ناک جنگ شروع ہوگئی، اسرائیلی طیاروں نے آسان شکار دیکھ کر جھپٹا مارا مگر سامنے شکار نہیں بلکہ شکاری تھا، جس نے پلٹ کر وار کیا اور کے تیرہ میزائل کے فائر سے ایک اسرائیلی جہاز کو تباہ کردیا، فیول کم تھا ورنہ بھٹو کے ملک کا یہ جانباز سپاہی ایئرکموڈور عبدالستار علوی دوسرا جہاز بھی گرادیتا، پاکستانی جہاز اسرائیل پر یونہی قیامت ڈھاتے رہے اور ہزاروں میل دور اسلام آباد میں بیٹھا بھٹو مسکرا رہا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو فلسطین کا عاشق تھا، اس نے موشے دایان کو للکار کر کہا تھا کہ تیری دوسری آنکھ بھی نکال لیں گے، بھٹو نے فلسطین کو ہر پاکستانی کا ایسا مسئلہ بنادیا کہ لوگوں نے اپنے بچوں کے نام ناصر، یاسر، فیصل، صدام اور قذافی رکھ لئے، یہ عرب قوم پرستی کا سنہری دور تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے عربوں کو سکھایا کہ کیسے تیل کے معاملے پر مغرب کو سبق سکھانا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے یاسر عرفات کو فلسطین کے نمائندے کے طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی جس کے بعد عالمی دنیا نے انہیں فلسطین کا باضابطہ نمائندہ تسلیم کیا، یاسر عرفات بعد میں لاڑکانہ میں گڑھی خدا بخش مزار پر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے بھی آئے تھے۔
دنیا میں فلسطین کے سب سے بڑے وکیل ذوالفقار علی بھٹو کو اس ڈکٹیٹر جنرل ضیاالحق نے شہید کیا جو اردن کے شاہ حسین کے حکم پر 1970 میں بطور بریگیڈیئر فلسطینی حریت پسندوں کو شہید کرچکا تھا، اسرائیلی دہشت گرد موشے دایان نے کہا تھا کہ بریگیڈیئر ضیاالحق نے 11 دنوں میں اتنے فلسطینی مزاحمت کار شہید کردئیے کہ اسرائیل 20 سال میں اتنے نہ کرسکا، اسی وجہ سے عرب دنیا بھٹو کی دیوانی رہی اور ضیا اور اس کی ذریت سے نفرت کرتی رہی تاوقتیکہ امریکا نے اسلام فروشوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوری دنیا میں اسلامی انتہاپسندی پھیلادی اور پھر فلسطین فنڈ کا دھندا شروع ہوگیا۔
جنرل ضیاالحق اور اس کی ذریت کے خلاف کرنل قذافی نے ایک جیالے کا کردار ادا کیا، حافظ الاسد نے بھٹو خاندان کو شام میں پناہ دی، میر شاہنوار بھٹو شہید کی عسکری تربیت فلسطینی کمانڈوز نے کی تھی، فلسطین کی جدوجہد پاکستان کے ترقی پسند اور لبرل طبقے کا رومانس رہا ہے، لیفٹ کے شاعر فیض احمد فیض اپنی جلاوطنی کے دوران بیروت میں ہی مقیم رہے تھے مگر آج یہ عالم ہے کہ فلسطین کے معاملے کو مذہب فروشوں نے سستی جذباتیت کا ایک اظہار بنادیا ہے.
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں اسرائیلی مظالم جاری،بمباری سے مزید 80افراد شہید ، بھوک سے 29 بچے چل بسے