وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی صدر کا آج دورہ پاکستان، اہم ملاقاتیں شیڈول
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس)ایران کے صدر مسعود پزشکیان آج (23 جون) پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس کے دوران ایرانی صدر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان کے مطابق صدر پزشکیان اپنے دورے کے دوران صدرِ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقاتیں کریں گے،ان ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کا جامع جائزہ لیں گے، جبکہ تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی اور عوامی سطح کے روابط کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی،اس کے علاوہ علاقائی رابطہ کاری اور عالمی امور پر بھی مشاورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں میٹروبس سروس آج مکمل بند
ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد ہونے والی سفارتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا،پاکستانی اور ایرانی قیادت خطے میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر بھی گفتگو کرے گی۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
علاوہ ازیں ایرانی صدر کا پاکستان کا دورہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور جاری امن عمل کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ تہران پاکستان کی قیادت، نیت اور سفارتی کردار پر مکمل اعتماد رکھتا ہے،ایران پاکستان کو صرف ایک سہولت کار کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ایک قابلِ بھروسہ ہمسایہ اور معتبر شراکت دار کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔
ایران نے اس بات کو سراہا ہے کہ پاکستان نے ایک نازک موقع پر کشیدگی کو بڑھنے سے روکا، مذاکرات کے لیے جگہ پیدا کی اور ایک قابلِ اعتماد مذاکراتی راستہ بنانے میں کردار ادا کیا۔
صدر پیزشکیان کے دورے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی اور سیاسی تائید کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
یہ دورہ ایرانی عوام کی پاکستان کے ساتھ خصوصی وابستگی اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
اس اعتماد کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، رابطہ کاری، سرحدی انتظام اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مسعود پزشکیان بطور صدر ایران دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔